اکرم لاہوری مقدمہ قتل سے بری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کی ایک عدالت نے کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے رہنما اکرم لاہوری اور اس کے دو ساتھیوں کو ایک قتل کیس سے بری کردیا ہے۔ اکرم لاہوری، محمد اعظم اور عطاء اللہ پر الزام تھا کہ انہوں نے کراچی کے علاقے گزری میں شیعہ ڈاکٹر آلِ صفدر رضوی کو قتل کیا تھا۔ انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج حق نواز بلوچ نے اپریل دو ہزار تین کو تینوں ملزمان کو موت کی سزا سنائی تھی جس کے بعد ملزمان نے سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ جسٹس افضل سومرو اور جسٹس رحمت حسین جعفری پر مشتمل عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پولیس ملزمان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کرسکی ہے اس لئے انہیں اس مقدمے سے بری کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ اجمل عرف اکرم لاہوری پر سندھ اور پنجاب کی پولیس نے پچیس لاکھ روپے انعام مقرر کیا تھا۔ انہیں انتیس جون دو ہزار دو کو ان کے چار ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔ اکرم لاہوری گریجویٹ ہیں وہ پہلے کالعدم سپاہ صحابہ کے لۓ کام کرتے تھے۔ اکرم لاہوری نے سن انیس سو چھیانوے میں اپنے ساتھیوں کی مدد سے لشکر جھنگوی تشکیل دی تھی لیکن بعدازاں حکومت پاکستان نے لشکر جھنگوی کو بھی کالعدم قرار دے دیا تھا۔ | اسی بارے میں اکرم لاہوری کو سزا19 August, 2003 | صفحۂ اول اکرم لاہوری کو سزائے موت 26.04.2003 | صفحۂ اول پشیمان نہیں ہوں: لاہوری01.07.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||