لاہور دھماکے: دو اور زخمی چل بسے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور بم دھماکوں کے دو مزید زخمی دم توڑ گئے ہیں اس طرح ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب نو ہوگئی ہے پولیس تاحال ملزموں کا سراغ نہیں لگا سکی اور اس بارے میں پولیس کے اب تک کےاندازے غلط ثابت ہوئے ہیں۔ لاہور میں جمعرات کو اچھرہ اور لاری اڈہ میں دو الگ الگ دھماکوں میں سات افراد ہلاک ہوۓ تھے اور دو درجن کے قریب زخمی تھے۔ ان زخمیوں کو لاہور کے سروسز ہسپتال میں داخل کرادیا گیا تھا جہاں کل رات ایک زخمی بچہ سلیم اللہ ہلاک ہوگیا اور اتوار کو رکشہ ڈرائیور امتیاز عرف کاکا بھی دم توڑ گیا دونوں کی لاشیں ان کے ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ ان دھماکوں میں سائیکلیں استعمال کی گئی تھیں پولیس نے ان پر کنندہ نمبروں اور ماڈل کے ذریعے ان بائسیکلوں کی فیکٹریوں اور دکانداروں سے رابطے کیے ہیں۔ پولیس نے لاری اڈہ میں ہلاک ہونے والے واحد شخص کے بارے میں یہ غلط اندازہ لگایا تھا کہ چونکہ اس کی شناخت نہیں ہو رہی اس لیے ممکن ہے کہ وہ ہی بمبار ہو، جو بم فٹ کرتے ہوئے مارا گیا لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ وہ نواحی شہر فاروق آباد کا رہائشی ایک ایسا غریب نوجوان تھا جو محنت مزدوری کرنے لاہور آیا تھا اور دھماکے کے وقت بم کے پاس سے گذر رہا تھا کہ موت نے اسے آن لیا۔ اس کے ورثا روتے پیٹتے پہنچے تو پولیس نے اپنی تسلی کے کرنے کے بعد اس کی لاش بھی ورثا کے حوالے کر دی۔ لاہور کے تفتیشی ونگ کے سپرنٹنڈنٹ پولیس مسعود عزیز نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ متوفی اصل ملزم نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پولیس نے ابھی تک اصل ملزم گرفتار نہیں کیے تاہم ان کا دعوی ہے کہ پولیس کو چند اہم سراغ ملے ہیں جن کو اگرچہ وہ فی الحال بیان نہیں کر سکتے لیکن ان کا کہنا تھا کہ ان کی بنیاد پر ملزمان کو پکڑا جاسکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||