BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 September, 2005, 23:32 GMT 04:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہلاک ہونے والوں کی تعداد سات

 مبینہ حملہ آور کا خاکہ
پولیس کا خیال ہے کہ یہی وہ شخص ہو سکتا ہے جو اچھرہ میں بم نصب کرکے بھاگ گیا
پنجاب پولیس نے لاہور میں ہونے والے بم دھماکے کے سلسلے میں ایک مشتبہ شخص کا خاکہ جاری کیا ہے اور خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ یہی وہ شخص ہو سکتا ہے جو اچھرہ میں بم نصب کرکے بھاگ گیا۔

دریں اثناء دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سات ہو گئی ہے۔ شمس الدین زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ہلاک ہوگئے جبکہ ایک بچے کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق جس نوجوان کا خاکہ جاری کیا گیا ہے اس حلیے کا نوجوان بم دھماکے سے پہلے اچھرہ موڑ پر مشکوک حالات میں دیکھا گیا اور عینی شاہدوں سے پوچھ کر اس کا خاکہ تیار کیا گیا۔

جمعرات کو لاہور کے بازار اچھرہ اور آزادی چوک میں وقفے وقفے سے دو بم دھماکے ہوئے تھے جن میں چھ افراد ہلاک اور دو درجن کے قریب زخمی ہوگئے۔

آزادی چوک بم دھماکےمیں ایک ہی شخص ہلاک ہوا تھا جس کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی۔

ایک پولیس افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پولیس کوآزادی چوک بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے نامعلوم شخص پر بھی شبہ ہے۔

پولیس کے بقول اس کے جسم کے سامنے کے حصے پر ساٹھ زخم آۓ ہیں جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ وہ بم کے بہت ہی نزدیک تھا اور پولیس کے بقول اس کے نزدیک ہونے کی ایک یہ وجہ بھی ہو سکتا ہے کہ بم نصب کرنے کےدوران ہی پھٹ گیا ہو۔

تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ جب تک متوفی کی شناخت نہیں ہوجاتی اس کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔

لاہور کے علاقے اچھرہ اور لاری اڈہ میں بم دھماکوں میں چھ افراد ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد شہر میں سیکیورٹی کاسخت انتظام کیا گیا ہے۔

جمعہ کو شیعہ مسلمانوں کے دینی ادارے جامعتہ المنتظر میں امامیہ سٹوڈنٹش آرگنایزیشن کا سالانہ سفیر کنونشن ہونا ہے جس کے باعث سکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات کیے گئے ہیں اور خلاف معمول یہ سیکورٹی پلان اخبارات کو بھی جاری کیا گیا۔

حکومت پنجاب نے ہلاک ہونے والوں کے ورثاء کے لیے ایک لاکھ روپے فی کس اور زخمیوں کے لیے پچاس ہزار روپے فی کس امداد دینے کا بھی اعلان کیا ہے لیکن ابھی تک ملزموں کے بارے میں کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا جاسکا اور عملی طور پر پولیس کے تفتیش کار ابھی تک اندھیرے میں ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔

لاہور کے سنیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس عامر ذوالفقار چیمہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوۓ کہا کہ ان واقعات کی تفتیش کے لیے خصوصی ٹیمیں بنا دی گئی ہیں اور شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں اور جب بھی کوئی ٹھوس شہادت سامنے آئی اس کی روشنی میں تفتیش آگے بڑھائی جائے گی۔

66لاہور دھماکے
لاہور میں جمعرات کو دھماکوں کی تصاویر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد