لاہور بم دھماکے: 7 افراد گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں بائیس ستمبر کو ہونے والے دو بم دھماکے کرنے کے شبہ میں لاہور پولیس نے چار بلوچ مردوں، سکھر کے رہائشی دو پٹھان باشندوں اور ایک عورت کو گرفتار کیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ جمعرات کو اچھرہ اور لاری اڈہ میں دو الگ الگ دھماکوں میں نو افراد ہلاک اور بیس کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کو ملنے والے ابتدائی سراغ کے مطابق یہ دھماکے بلوچستان میں جاری عسکریت پسند تحریک اور بلوچ لبریشن آرمی کے کارکنوں نے کیے ہیں کیونکہ وہ پنجاب کو اپنا مخالف اور دشمن سمجھتے ہیں۔ ان بم دھماکوں کی تفتیش کے لیے پولیس کی چار مختلف ٹیمیں اپنے اپنے طور پر تفتیش کررہی ہیں جنہوں نے اب تک مجموعی طور پر سینتیس افراد کو حراست میں لیا ہے۔ پولیس سندھ سے ملحق جنوبی پنجاب کے قصبہ صادق آباد سے ایک سائیکل ڈیلر سمیت چند افراد کو تفتیش کے لیے گرفتار کرکے لاہور لائی ہے۔ یہ دونوں بم دھماکے سائیکلوں کے نیچے باندھے گئے ٹائم بموں کے ذریعے دیسی ساختہ بموں کو اڑانے سے کیے گئے تھے جو اس طریقہ کار سے بم دھماکے کرنے کا پہلا واقعہ تھا۔ پولیس باقاعدہ طور پر ابھی ان بم دھماکوں کی تفتیش یا زیر حراست افراد کے ناموں کے بارے میں کچھ نہیں بتا رہی۔ لاہور پولیس کے ضلع پولیس آفیسر طارق سلیم ڈوگر کا کہنا ہے کہ ان بم دھماکوں کی تفتیش میں اہم پیش رفت ہوئی ہے لیکن ابھی یہ بات منظر عام پر نہیں لائی جاسکتی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||