دھماکے: نامعلوم افراد پر مقدمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں جمعرات کی شب کے ایف سی اور میکڈونلڈ میں ہونے والے دھماکوں کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیا گیا ہے۔ میکڈونلڈ ڈیفنس اور کے ایف سی خیابانِ بدر میں ہونے والے دھماکوں میں ایک بچی سمیت چار افراد زخمی ہوگئے تھے جنہیں جناح ہسپتال پہنچایا گیا تھا۔ درخشاں تھانے کی پولیس کا کہنا ہے کہ کے ایف سی کے مینجر حسیب رضوی نے دھماکے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کروایا ہے۔ یہ مقدمہ انسدادِ دہشت گردی کے ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے جبکہ میکڈونلڈ میں دھماکے کا کوئی مقدمہ درج نہیں کروایا گیا۔ اس سلسلے میں ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ دھماکے کے فوراً بعد بم ڈسپوزل سکواڈ کے ارکان دونوں مقامات پر پہنچ گئے تھے اور کراچی پولیس چیف طارق جمیل کا کہنا ہے کہ یہ کریکر ( پٹاخے) کے معمولی دھماکے تھے اور یہ کریکر دیسی ساخت کے تھے۔ واضح رہے گزشتہ برسوں میں کے ایف سی پر یہ چھٹا حملہ تھا۔ اس سے تین ماہ قبل اکتیس مئی کو امام بارگاہ مدینتہ العلم پر خودکش حملے کے بعد نامعلوم افراد نے کے ایف سی گلشن اقبال کو نذرِ آتش کر دیا تھا جس میں چھ ملازمین جھلس کر ہلاک ہوگئے تھے ۔ کے ایف سی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کے ایف سی کی مصنوعات کے حقوق عالمی کمپنی کے ہیں لیکن یہ مکمل پاکستانی کمپنی ہے۔ یہ دھماکے اس رات کو ہوئے جب شیرٹن بم دھماکے میں ملوث ایک اور ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||