مشرف دورہ: پھر راکٹ داغے گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف کے دورۂ کوہلو کے موقع پر نامعلوم افراد نے راکٹ داغے ہیں تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ منگل کی شب بھی جب جنرل مشرف کوئٹہ پہنچے تھے تو نامعلوم افراد نے راکٹ داغے تھے۔ صدر جنرل پرویز مشرف صوبہ بلوچستان کے تین روزہ دورے کے آخری روز آج کوہلو پہنچے ہیں۔ کوہلو سے ایک پولیس اہلکار نے بتایا ہے کہ تین راکٹ فرنٹیئر کور کے کیمپ اور تین راکٹ شہر سے کافی دور گرے ہیں۔ ایف سی کیمپ کے قریب گرنے والے راکٹوں کے دھماکے اس قدر شدید تھے کہ ان کی آواز دور دور تک سنی گئی ہے۔ دریں اثناء ایک نامعلوم شخص نے ٹیلیفون پر اپنا نام میرک بلوچ بتاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ہی صدر پرویز مشرف کے دورے پر راکٹ داغے ہیں جس کی ذمہ داری وہ بلوچ لبریشن آرمی کی طرف سے قبول کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ کوہلو سے دور کچھ راکٹ چلنے سے پہلے ناکارہ بنا دیے گئے ہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف کے کوہلو کے دورے کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور شہر کے اردگرد پہاڑیوں پر ایف سی، پولیس اور لیویز کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ یاد رہےکہ کل رات یہاں کوئٹہ میں صدر جنرل پرویز مشرف کی موجودگی میں چھاؤنی کے علاقے میں دو راکٹ گرنے کی آوازیں سنی گئی تھیں لیکن سرکاری سطح پر اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ | اسی بارے میں کوئٹہ میں جنرل مشرف اور دھماکے13 December, 2005 | پاکستان ’فوجی آپریشن کی تیاری جاری ہے‘10 December, 2005 | پاکستان بلوچستان آپریشن، سات افراد گرفتار08 December, 2005 | پاکستان خضدار: پانچ ملزمان کو سزائے موت29 November, 2005 | پاکستان ’بلوچ لبریشن آرمی کے شواہد نہیں‘ 17 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||