’بلوچ لبریشن آرمی کے شواہد نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کہا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ نامی تنظیموں کے وجود کے بارے میں کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے تاہم یہ معلوم ہوا ہے کہ یہاں لوگوں کو اس کام کے لیے تنخواہوں پر بھرتی کیا گیا ہے۔ یہاں کوئٹہ میں امن و امان کے حوالے سے منعقد ہونے والے ایک اجلاس کی صدارت کے بعد وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ امن کے قیام کے لیے حکومت کوششیں کر رہی ہے اور بلوچستان میں کوئی فوجی کارروائی کا ارادہ نہیں ہے۔ یہاں بلوچستان میں نواب اکبر بگٹی اور ان کی جماعت جمہوری وطن پارٹی کے قائدین نے کہا ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں ایک اور فوجی آپریشن کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ کے بارے میں انھوں نے کہا ہے کہ ایسے ٹھوس شواہد نہیں ملے کہ ان تنظیموں کا کوئی بڑا سیٹ اپ ہے لیکن یہ معلوم ہوا ہے کہ لوگوں کو ان کاموں کے لیے تنخواہوں پر بھرتی کیا گیا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ان لوگوں کی پشت پر کون لوگ ہیں تو انھوں نے کہا کہ کیا آپ کو پتہ نہیں ہے اور یہی بات بار بار دہراتے رہے ۔ آفتاب شیرپاؤ نے کہا ہے کہ کراچی بم دھماکے کی تحقیقات ہو رہی ہیں اور اس بارے میں کچھ گرفتاریاں ہوئی ہیں۔ ان سے جب پوچھا کہ آیا بلوچ لبریشن آرمی کا اس واقعہ سے کوئی تعلق سامنے آیا ہے تو انہوں نے کہا ہے کہ پولیس اور دیگر ادارے آزادانہ طور پر تحقیقات کر رہی ہیں اس بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی جاسکتیں۔ آفتاب احمد خان شیرپاؤ سے ان بھوک ہڑتالیوں کے بارے میں پوچھا گیا جنہوں نے الزام لگایا ہے کہ ان کے رشتہ داروں کو خفیہ ایجنسی کے اہلکار اٹھا کر لے گئے ہیں اور اب تک ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے تو وزیر داخلہ نے اس بارے میں کوئی واضح جواب نہیں دیا اور صرف یہی کہا کہ اس کے بارے میں قانونی راستے موجود ہیں۔ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کہا ہے کہ بلوچستان کانسٹیبلری قائم کی جائے گی اور اس کے لیے چھ ہزار مقامی افراد کو تعینات کیا جائے گا جبکہ صوبے میں میگا پراجیکٹس اور اہم قومی تنصیبات کی حفاظت کے لیے فرنٹیئر کانسٹبلری تعینات کی جائے گی۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس کے لیے صوبائی حکومت نے درخواست کی تھی جسے وفاقی حکومت نے منظور کیا ہے اور اب جتنی تعداد ایف سی کی ضرورت ہوگی صوبے کو مہیا کی جائے گی۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ صوبے میں ایک سو چونتیس ارب روپے کے منصوبے جاری ہیں جہاں غیر ملکی بھی کام کر رہے ہیں جن کی حفاظت حکومت کا فرض ہے۔ القاعدہ کے ارکان کی گرفتاری کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جوا ب میں انھوں نے کہا ہے کہ کوئٹہ سے کچھ افراد کو گرفتار کیا ہے جن سے پوچھ گچھ جاری ہے اور مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔ | اسی بارے میں ’خود کش حملہ آور شہید نہیں ہیں‘16 July, 2005 | آس پاس ’خود کش بمبار شہید نہیں‘ 16 July, 2005 | آس پاس جنگ اور دہشت گردی کی نفسیات15 July, 2005 | آس پاس لیڈز کے ایشائیوں کی پریشانیاں15 July, 2005 | آس پاس ’دہشت گرد پڑوسی‘ 14 July, 2005 | آس پاس لندن، یورپ میں دو منٹ کی خاموشی14 July, 2005 | آس پاس حملہ آور کون تھے؟14 July, 2005 | آس پاس ’انتہا پسندی سے نمٹیں گے‘14 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||