BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 December, 2005, 16:56 GMT 21:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوہلو میں کشیدگی برقرار

بلوچستان میں فوج کے خلاف قوم پرست گروپ سرگرم ہیں
صوبہ بلوچستان کے علاقے کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں اتوار کے روز بھی حالات انتہائی کشیدہ بتائے گئے ہیں جہاں اطلاعات کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے کارروائی کی ہے لیکن تاحال کوئی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ سرکاری سطح پر اس کارروائی کی تصدیق نہیں کی گئی۔

وزیر داخلہ آفتاب خان شیرپاؤ سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا کوہلو میں کوئی فوجی آپریشن جاری ہے تو انہوں نے اس کی تردید کی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر کسی واقعے پر وہاں کی مقامی انتظامیہ نے کوئی اقدام کیا تو اس کے بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتے۔

جمہوری وطن پارٹی کے جنرل سیکرٹری آغا شاہد بگٹی نے کہا ہے کہ ڈیرہ بگٹی کے دور دراز علاقوں میں بھی فصائی فائرنگ کی گئی ہے جبکہ سوئی میں باقاعدہ فوج کے مزید دستے بھیج دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں فرنٹیئر کور نے وہ مورچے دوبارہ سنمبھال لیے ہیں جو ایف سی اور بگٹی قبائل کے مابین ایک معاہدے کے تحت خالی کیے گئے تھے۔

نواب خیر بخش مری کے بیٹے اور رکن صوبائی اسمبلی بالاچ مری نے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے کوہلو کے دور دراز علاقے میں آبادیوں میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے فائرنگ کی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ سبی کوہلو روڈ پر زیادہ تر مری قبائل کے دیہاتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی جا رہی تاہم یہ ضرور کہا گیا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے کوہلو کے دورے کے دوران راکٹ باری اور ایف سی کی ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی ضرور ہوگی۔

سرکاری ذرائع نے کہا ہے فی الحال ان مقامات کا جائزہ لیا جایا جا رہا ہے جہاں مشتبہ افراد روپوش ہو سکتے ہیں اور اس کے لیے فضائی سہولتوں کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کچھ روز پہلے صدر پرویز مشرف کے دورہ کوہلو کے دوران نامعلوم افراد نے کم سے کم چھ راکٹ فائر کیے تھے لیکن کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ اس کے اگلے روز نامعلوم افراد نے ایف سی کے ہیلی کاپٹر پر چھوٹے اسلحے سے فائر کیے تھے جس سے انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور میجر جنرل شجاعت ضمیر ڈار اور ڈی آئی جی بریگیڈیئر سلیم نواز ٹانگوں پر گولیاں لگنے سے زخمی ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں
مشرف دورہ: پھر راکٹ داغے گئے
14 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد