فرقہ واریت: ڈھائی سو افراد گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں پولیس نے فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کے حوالے سے ڈھائی سو افراد کو حراست میں لیا ہے۔گرفتار افراد میں مدارس کے طالب علم، اساتذہ اور مذہبی جماعتوں کے کارکن شامل ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کے قائدین نے ’ بےگناہ افراد کی گرفتاری‘ کی مذمت کی ہے۔ کوئٹہ کے پولیس افسر سلمان سید نے کہا ہے کہ صرف کوئٹہ سے دو سو اکیس افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان لوگوں میں سے کئی کا تعلق مختلف مذہبی جماعتوں سے ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان کے دیگر علاقوں سے بھی گرفتاریاں کی گئی ہیں۔ پولیس حکام نے کہا ہے کہ ان افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور بے گناہ افراد کو جلد رہا کر دیا جائےگا۔ اس بارے میں کوئٹہ میں جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ کے ڈپٹی جنرل سیکر ٹری مولانا عبدالقادر لونی نے کہا ہے وہ ان گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہیں اور اگر ان افراد کو جلد از جلد رہا نہ کیا گیا تو وہ احتجاجی تحریک شروع کریں گے۔ بلوچستان میں گزشتہ سال عاشورہ کے جلوس پر حملے کے بعد سے ’ٹارگٹ کِلنگ‘ کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ صرف اس ماہ میں اب تک تین شیعہ افراد کو ہلاک کیا گیا ہے جن میں ایک پیش امام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ادھر ڈیرہ بگٹی میں بگٹی مسوری قبائل کے مابین جھڑپ میں دو افراد ہلاک اور چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ یہ جھڑپ زمین پر تنازعے کی وجہ سے ہوئی ہے لیکن مسوری قبائل کے لیڈر غلام قادر مسوری نے کہا ہے کہ یہ زمین کی تنازعہ نہیں ہے بلکہ ان کے قبیلے کے لوگوں کو بے گھر کیا جا رہا ہے۔ | اسی بارے میں عاشورہ کے موقع پر گرفتاریاں18 February, 2005 | پاکستان فرقہ وارانہ قتل، کئی گرفتاریاں19 July, 2005 | پاکستان کوئٹہ میں سرکاری ملازم ہلاک14 September, 2005 | پاکستان کوئٹہ: فرقہ واریت میں ایک ہلاک09 December, 2005 | پاکستان کوئٹہ: ’فرقہ واریت‘ میں ایک ہلاک26 October, 2005 | پاکستان عسکری کارروائیوں کی راہ کیوں؟15 February, 2005 | پاکستان مسلم لیگ کے دفتر میں دھماکہ04 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||