کوئٹہ میں سرکاری ملازم ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں فرقہ وارانہ تشدد کی دوسری واردات میں نامعلوم افراد نے ریلوے کے ایک ملازم کو گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔ پولیس حکام نے کہا ہے کہ انہوں نے گزشتہ رات آٹھ افراد کو شک کی بنیاد پر حراست میں لیا ہے۔ ایک ہفتے میں فرقہ وارانہ تشدد کا یہ تیسرا واقعہ ہے ۔ اعجاز الحسن نامی شخص بدھ کو دفتر جانے کے لیے گھر سے نکلے ہی تھے کہ نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان پر فائرنگ کر دی جس سے وہ ہلاک ہوگئے۔ یہ واقعہ جائنٹ روڈ پر بابو محلے کے قریب پیش آیا ہے۔ یاد رہے گزشتہ روز نامعلوم افراد نے زراعت کے محکمے کے ایک ملاز م کو ہلاک کردیا تھا جبکہ تین روز پہلے وسیم احمد نا می شخص کو جو جعفری کلینک پر کام کرتے تھے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کوئٹہ رینج پرویز ظہور نے کہا ہے کہ پولیس نے کل رات آٹھ افراد کو حراست میں لیا ہے جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاہم گزشتہ دو ماہ میں فرقہ وارانہ تشدد کے پانچ سے زیادہ وارداتوں میں ملوث اصل ملزمان تاحال گرفتار نہیں کیے جاسکے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پولیس کے سینیئر اور تجربہ کار افسران پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی جا رہی ہے جو صرف فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کے حوالے سے چھان بین اور گرفتاریاں کرے گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقے جیسے مستونگ ڈیرہ مراد جمالی وغیرہ ایسے علاقے ہیں جہاں ملزمان کی جڑیں پائی جاتی ہیں اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جارہی ہے۔ گزشتہ روز ایاز علی بنگش نامی شخص کی ہلاکت کے بعد اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاج کیا تھا اور میت کئی گھنٹے تک انسپکٹر جنرل پولیس کے دفتر کے سامنے روڈ پر رکھ دی تھی۔ پولیس کی اس یقین دہانی پر کہ ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا تھا۔ مختار فورس کے کمانڈر جان محمد جانو نے کہا ہے کہ ان کے حلقے میں اس بارے میں کافی تشویش پائی جاتی ہے تاہم وہ پرامن احتجاج کریں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||