والدین اور دو بھائیوں کا قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے ایک شہر منڈی بہاؤالدین میں والدین اور دو بھائیوں کو سوتے میں کلہاڑی کے وار کرکے قتل کر نے میں ملوث دو نوجوان بہنوں نے مبینہ طور پر پولیس کے روبرو اعتراف جرم کر لیا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے اپنے والدین کی بدسلوکی کا بدلہ لینے کے لیے انہیں قتل کیا ہے۔ لاہور سے کوئی سوا سو کلومیٹر کے دور منڈی بہاؤالدین کےنواحی گاؤں کٹھیالہ شیخاں میں مقامی زمیندار سکندر رانجھا ان کی اہلیہ فاطمہ اور ان کے دو جوان بیٹوں سیف اور سمیع اللہ کی لاشیں پیر کی صبح ان کے گھر سے اس حالت میں برآمد ہوئیں کہ ان کے جسم پر خاص طور پر گلے پر کلہاڑی کے وار کیے گئے تھے جبکہ سکندر کی دو بیٹیاں تیس سالہ آسیہ، بائیس سالہ خنسہ اور چھ سالہ بیٹا زکریا غائب تھے۔ تھانہ کٹھیالہ شیخاں کے سٹیشن ہاؤس آفیسر انسپکٹر طارق محمود وڑائچ نے بتایا کہ یہ لڑکیاں اپنے بھائی کو لیکر قریبی گاؤں اپنے ننھیال چلی گئی تھیں اور ان کے رشتہ داروں کی اطلاع پر ہی انہوں نے دونوں بہنوں کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں بہنوں نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔ پولیس انسپکٹر نے بتایا کہ لڑکیوں نے جو بیان قلمبند کرایا ہے اس کہ مطابق انہیں اپنے والدین کی بدسلوکی کا شکوہ تھا وہ کہتی تھیں کہ ’ان کے والد معمولی بات پر انہیں ڈنڈے سے پیٹتے تھے ان سے شفقت کا سلوک نہیں رکھتے تھے۔‘ بڑی بہن آسیہ نے پولیس کو کہا کہ ’اس کی قریبی گاؤں میں رشتے کی بات چل رہی تھی اورایک دن وہ لوگ انہیں ملنے آئے تو ان کی صحیح خاطر تواضع نہیں کی جس پر انہوں نے واپس جاکر رشتہ توڑ دیا۔‘ پولیس کے مطابق ان کی ایک تیسری بہن بھی تھی جو جسمانی اور ذہنی طور پر مفلوج تھی اور ہر وقت اذیت میں رہتی تھی۔ ان دونوں ملزم بہنوں کا کہنا ہے کہ ’ان کے والدین اس کا صیح طور پر علاج نہیں کراتے تھے اس لیے وہ شدت تکلیف سے چلاتی رہتی تھیں‘۔ ان بہنوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے والد اس کے شور سے بچنے کے لیے ہر وقت ان کی اس بہن کو نشے کی گولیاں دیتے رہتے تھے حالانکہ ڈاکٹر نے ایسا کرنے سے منع بھی کیا تھا انہی گولیوں کی وجہ سے وہ مرگئی۔ پولیس کے مطابق دونوں بہنوں نے بچی ہوئی وہی گولیاں اپنے والدین اور بھائیوں کو کھلادی تھیں جس سے وہ بے ہوش ہوگئے اورلڑکیوں نے مبینہ طور پر کلہاڑ ی کے وار کرکے چاروں کو قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق ’لڑکیوں کو رنج تھا کہ ان کےدونوں بھائی اپنے والدین کاساتھ دیتےتھے۔‘ پولیس انسپکٹر کا کہنا ہے کہ لڑکیاں مایوسی کاشکار تھیں ان کہنا تھا کہ نہ انہیں یہ امید تھی کہ ان کی شادیاں ہوپائیں گی اورنہ ہی انہیں اپنے والدین دونوں لڑکیوں کو عدالتی تحویل میں جیل بھجوادیاگیا ہے لاشیں پوسٹ مارٹم کے بعد مقامی قبرستان میں دفن کردی گئی ہیں۔ مقدمہ کا مدعی لڑکیوں کا چچا اور مقتول سکندر کا بھائی منور اقبال ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||