بجلی بند ہونے پر احتجاج، جھڑپیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی شہر کے علاقے ملیر میں بجلی کی سپلائی منقطع ہونے کی وجہ سے لوگوں نے شدید احتجاج کیا ہے اور پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔ گرمی اور پانی کی قلت سے متاثرہ سینکڑوں شہریوں نے دھرنا دیا جبکہ مظاہرین نے کئی گھنٹے تک قومی شاہراہ بند رکھی۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان آنکھ مچولی آخری خبریں آنے تک جاری تھی۔ علاقے میں بجلی کی سپلائی اتوار کے روز نامعلوم افراد کی جانب سے کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے ایک ٹاور کو دھماکے کے ذریعے نقصان پہنچانے بعد منقطع ہوگئی تھی۔ پیر کی شام سٹیل ملز موڑ کے پاس مظاہرین نے قومی شاہراہ بلاک کرکے ٹائروں کو آگ لگا دی اور آنے جانے والی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان وقفے وقفے سےجھڑپیں بھی ہوئیں۔ مشتعل مظاہرین نے پولیس فاؤنڈیشن کی ایک گاڑی کو نذر آتش کردیا۔ اس موقع پر پولیس نے آنسو گیس کے شیل پھینکے اور لاٹھی چارج کرنے کے بعد تیس مظاہرین کوگرفتار کر لیا۔ ٹی پی او بن قاسم آصف اعجاز نے بی بی سی کو بتایا کہ شدید گرمی میں لوگ بجلی بند ہونے کی وجہ سے احتجاج کررہے ہیں۔ انہوں نے آنسو گیس کے استعمال اور گرفتاریوں کی تصدیق کی۔ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے ایک افسر نے بجلی بند ہونے سے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ جس علاقے میں بجلی کا کھمبا گرا ہے وہاں کوئی آبادی نہیں ہے۔ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے دو تین مرتبہ سٹیل مل کے اندر گھسنے کی کوشش کی لیکن مل کے محافظوں نے ہوائی فائرنگ کرکے انہیں پیچھے رہنے پر مجبور کردیا۔ مظاہرین کے نمائندے جاوید مزاری نے بتایا کہ گذشتہ تین دن سے علاقے میں بجلی بند ہے۔ جس کی وجہ سے پانی بھی بند ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارش کے بعد شدید حبس، گرمی اور گھٹن نے لوگوں کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جاوید مزاری نے کہا کہ علاقے میں بھینسوں کے باڑے ہیں۔ پانی بند ہونے کی وجہ سے بھینسیں مرنے کے قریب پہنچ چکی ہیں جس کی وجہ سے بھیسیں پالنے والوں کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچنے اور شہر میں دودھ کی قلت پیدا ہونے کا احتمال ہے۔ کے ای ایس سی کے ایک اور افسر کا کہنا ہے کہ لائن میں فالٹ ہے۔ جاوید مزاری نے شکوہ کیا کہ تین دن گذرنے کے باوجود نہ تو بجلی بحال ہو سکی ہے اور نہ ہی یہ معلوم ہو سکا ہے کہ فالٹ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی شاہراہ پر دھرنا تب تک جاری رہےگا جب تک گرفتار شدگان رہا نہیں کئے جاتے اور بجلی بحال نہیں کی جاتی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||