کراچی میں فائرنگ سے دو ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں رینجرز اور مظاہرین کے تصادم میں رینجرز کا ایک اہلکار اور ایک راہگیر ہلاک ہو گئے ہیں۔ سہراب گوٹھ کے علاقے میں مظاہرین نے رات کو حیدرآباد ہائی وے پر ایک مقامی مسجد کے پیش امام پر قاتلانہ حملے کے بعد قبضہ کر لیا تھا۔ رات گئے تک علاقے میں کشیدگی برقرار تھی۔ اطلاعات کے مطابق گل ٹاؤن میں گزشتہ رات دیر گئے ایک ٹیکسی میں سوار نامعلوم افراد نے ہائی وے کے قریب فائرنگ کی جس سے مسجد کے پیش امام قاری عبدالرزاق زخمی ہوگئے۔ اس کے بعد پشتون آبادی والے اس علاقے میں لوگ مشتعل ہوگئے اور علاقے میں فائرنگ کاسلسلے شروع ہوگیا۔ مشتعل لوگوں نے سپر ہائی وے پر رکاوٹیں کھڑی کردیں اور گلزار ہجری پولیس کی ایک چوکی کو بھی نذرِ آتش کردیا۔ اس دوران رینجرز کا ایک موبائل یونٹ وہاں پہنچا تو لوگوں نے اس پر بھی ہلہ بول دیا اور فائرنگ کی جس میں رینجرز اہلکار گل نواب اور ایک راہگیر خلیل الرحمان ہلاک ہوگیا۔ ہنگاموں کی وجہ سے سپر ہائی وے پر ٹریفک معطل رہی بعد میں پولیس کی ایک بھاری نفری منگواکر صورتحال کو کنٹرول کیا گیا۔ کراچی کے داخلی علاقے سہراب گوٹھ میں افغانی مہاجرین کی بھی ایک بہت بڑی تعداد رہائش پذیر ہے۔ پیر کی صبح سے ہی علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔زخمی قاری عبدالرزاق کو لیاقت نیشنل ہسپتال میں پہنچایا گیا ہے جہاں ان کی حالت بہتر بتائی جاتی ہے۔قاری عبدالرزاق جے یو آئی کے مقامی رہنما ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||