عزیزاللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ |  |
 |  پیر کو کوئٹہ میں ایک اور شعیہ شہری کو قاتلانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا (فائل فوٹو) |
کوئٹہ میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کے حوالے سے پولیس نے شک کی بنیاد پر لگ بھگ انتیس افراد کو حراست میں لیا ہے۔ گرفتار افراد میں سے بیشتر کا تعلق ایک کالعدم مذہبی تنظیم سے بتایا گیا ہے۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کوئٹہ سلمان سید نے بتایا ہے ان افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور توقع ہے کے ان افراد سے تفتیش کے دوران مزید معلومات مل سکیں گی تاکہ اصل ملزمان کو گرفتار کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا ہے کہ گرفتار افراد میں سے بیشتر کالعدم تنظیموں کے نمائندے ہیں یا رہ چکے ہیں اور یا ان کی قریبی عزیز ہیں۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ لگ بھگ بیس افراد کو کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر گرفتار کیا گیا ہے جبکہ چار افراد کو قلات سے حراست میں لیا گیا ہے۔ قلات کے سپرنٹنڈنٹ پولیس سلیم لہڑی نے بتایا ہے کہ قلات کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے گئے جہاں سے اب تک چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز کوئٹہ کے سریاب کے علاقے میں نا معلوم افراد نے فائرنگ کر کے ایک ریٹائیرڈ افسر طاہر رضا کو ہلاک کر دیا تھا جبکہ ان کی بیوی اس واقعہ میں زخمی ہو گئی تھیں۔ طاہر رضا نے اپنا ایک پرائیویٹ سکول کھول رکھا تھا۔ کوئٹہ میں شیعہ برادری نے اس واقعہ پر زبردست احتجاج کیا تھا اور جناح روڈ کافی دیر تک بلاک کیے رکھا۔ |