BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 July, 2005, 04:28 GMT 09:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ میں سخت حفاظتی انتظامات

فائل فوٹو
کوئٹہ میں پچھلے برس بھی فرقہ وارانہ تشدد کے کئی بڑے واقعات ہوئے تھے۔
کوئٹہ میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کے بعد حفاظتی اقدامات سخت کر دیے ہیں اور پولیس حکام نے کہا ہے کہ ان حملوں کے حوالے سے تین مشتبہ افراد گرفتار کیے گئے ہیں جن کا تعلق کالعدم مذہبی تنظیم سے بتایا گیا ہے۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس سلمان سید نے کہا ہے کہ پولیس نے کوئٹہ کے مختلف مقامات پر چھاپے مارے ہیں اور اب تک کوئی تین مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ چھاپوں کا سلسلسہ جاری ہے اور شہر میں حفاظی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں جہاں لگ بھگ ڈیڑھ ہزار پولیس اہلکار تعینات ہیں۔

کوئٹہ میں کل صبح نا معلوم افراد نے فائرنگ کرکے ایک پرایئویٹ سکول کے پرنسپل کو ہلاک کردیاتھا جبکہ ان کی بیوی اس واقعہ میں زخمی ہوئی ہے۔ پولیس حکام نے کہا ہے کہ یہ فرقہ وارانہ تشدد کا واقعہ نظر آتا ہے۔

طاہر رضا واپڈا کے ریٹائرڈ افسر تھے اور ان دنوں ایک پرایئویٹ سکول کھول رکھا تھا وہ اس سکول کے پرنسپل تھے اور ان کی بیوی اسی سکول میں پڑھاتی ہیں ۔کل صبح دونوں موٹر سائکل پر سکول جا رہے تھے کہ پہلے سے گھات لگائے بیٹھے نا معلوم افراد نے ان پر فائرنگ شروع کردی ۔ طاہر رضا موقع پر ہلاک ہو گئے جبکہ ان کی بیوی کو شدید زخمی حالت میں سول ہسپتال داخل کر دیا گیا ہے۔

سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس پرویز ظہور نے کہا ہے کہ یہ فرقہ وارانہ تشدد کا واقعہ ہے۔

شعیہ کمیٹی کے صدر سید طاہر شاہ نے کہا ہے کہ یہ دہشت گردی ہے اور حکومت اس پر قابو پانے میں ناکام ہوئی ہے

اس واقعہ کے بعد اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے افراد نے سول ہسپتال کے سامنے مظاہرہ کیا ہے اور زبردست نعرہ بازی کی ہے۔ انھوں نے جناح روڈ کو بلاک کر دیا تھا اور حکومت ے مطالبہ کیا ہے کہ فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں ملوث افراد کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ بعد میں انسپکٹر جنرل پولیس چوہدری یعقوب کی یقین دہانی پر مظاہرین منتشر ہو گئے۔

دریں اثنا ایک نا معلوم شخص نے ٹیلیفون پر اپنا نام ضرار بتایا ہے اور کہا ہے کہ وہ کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کا نمائندہ ہے اور ان واقعات کی زمہ داری قبول کرتا ہے۔

یاد رہے کہ جمعہ کے روز نا معلوم افراد نے چلتن ہاوسنگ سکیم کے علاقے میں فائرنگ کرکے معروف ڈاکٹر نادر خان کو فائرنگ کرکے زخمی کر دیا تھا۔ ڈاکٹر نادر خان کا تعلق اہل تشیع سے بتایا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد