BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 December, 2005, 19:10 GMT 00:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان:’فوجی آپریشن نہیں ہوگا‘

جام یوسف
کوہلو حملوں کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ہو گی
وزیرِاعلٰی بلوچستان جام محمد یوسف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہوگا لیکن کوہلو میں راکٹ باری اور نیم فوجی دستے کے ہیلی کاپٹر پر حملہ کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی ضرور ہوگی۔

کوئٹہ میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جام محمد یوسف نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے دورے کے دوران راکٹ داغنے والے افراد کو چھوڑ دیا جائے۔ ان افراد کے خلاف کارروائی ضرور ہوگی اور یہ کارروائی نیم فوجی دستے، پولیس اور لیویز کے اہلکار کریں گے۔

کوہلو میں گزشتہ روزصدر جنرل پرویز مشرف کے دورے کے دوران نامعلوم افراد نے کم سے کم چھ راکٹ داغے تھے اور جمعرات کو نامعلوم افراد نے ایف سی کے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کی جس سے انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور میجر جنرل شجاعت ضمیر ڈار اور ان کے نائب بریگیڈئر سلیم نواز پنڈلیوں پر گولیاں لگنے سے زخمی ہو گئے تھے۔

وزیرِاعلٰی سے جب پوچھا گیا کہ صدر کی سکیورٹی کے لیے بہتر انتظامات کیے جاتے ہیں لیکن یہاں اس طرح کے واقعات پیش آنا کیا مطلب ہے تو انہوں نے کہا کہ’یہ تو ہو سکتا ہے۔ یہ کافی عرصہ سے ہو رہے ہیں جتنا بھی رکاوٹ ڈالیں یہ ہوتے ہیں۔ صدر پاکستان نے خود کہا ہے کہ یہ ہوں گے اور انہوں نے بھی کہا تھا کہ وہ ضرور جائیں گے‘۔

جام محمد یوسف نے کہا ہے کہ گزشتہ روز صدر پرویز مشرف اور انہیں معلوم تھا کے کوہلو میں راکٹ فائر کیے جائیں گے لیکن پھر بھی وہ کوہلو گئے کیونکہ صرف چند لوگ ترقی کی مخالفت کر رہے ہیں لیکن اکثریت موجودہ حکومت کے حمایت کر رہی ہے‘۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزمان کا پیچھا کر رہے ہیں اور کچھ افراد گرفتار کیے گئے ہیں جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ان لوگوں کی پشت پناہی کون کر رہا ہے۔

ان واقعات کی زمہ داری میرک بلوچ اور آزاد بلوچ نامی افراد نے ٹیلیفون پر بلوچ لبریشن آرمی کی طرف سے قبول کی تھی۔ جام محمد یوسف نے ان تنظیموں کے بارے میں کہا کہ’ نام تو سنا ہے اب کون لوگ ہیں ان تنظیموں میں تو سامنے آجائے گا‘۔

اسی بارے میں
مشرف دورہ: پھر راکٹ داغے گئے
14 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد