’ کوہلوفوجی آپریشن میں 50 ہلاک‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے دعویٰ کیا ہے کہ کوہلو میں نیم فوجی دستوں کے آپریشن میں پچاس افراد ہلاک اور ایک سو سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جن میں عورتوں اور بچوں کی اکثریت ہے۔ کراچی میں منگل کے روز ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس آپریشن میں گن شپ ہیلی کاپٹر اور جیٹ طیارے استعمال کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’سبی ائر بیس سے روزانہ بیس جیٹ طیارے اڑان بھر رہے ہیں‘۔ انہوں نے بتایا کہ کوہلو کے علاوہ جاندران اور بنگلور کے علاقوں میں بھی بمباری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ’بلوچ لوگ خانہ بدوش ہیں اس لیے خیموں میں رہتے ہیں۔ ان پر بمباری کی جاری ہے۔ حکومت بتائے کہ ان لوگوں نے کیا قصور کیا ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ شرپسندوں کے خلاف آپریشن کیا گیا۔ کیا وہ معصوم بچے اور خواتین شرپسند تھے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’جب بنگلہ دیش کا مسئلہ ہوا تھا اس وقت بھی حکومت نے کہا تھا کہ شرپسندوں کے خلاف آپریشن کیا جارہا ہے۔ یہ الفاظ ہر قوم اور محب الوطن کے خلاف استعمال کیے جاتے ہیں‘۔ اختر مینگل نے بتایا کہ کوہلو آپریشن میں زخمی ہونے والوں میں سے ایک کو بھی سبی ہسپتال میں داخل نہیں کیا گیا ، سارے زخمی سی ایم ایچ ہسپتال پہنچائے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’ہمارے کارکنوں نے جب زخمیوں کے لیے خون جمع کرنے کی کوشش کی تو انہیں روکا گیا‘۔ انہوں نے بتایا کہ ’ڈیرا بگٹی میں پیرا ملٹری فورس جن علاقوں سے چلی گئی تھی واپس آگئی ہے، جبکہ جہاں سے نواب اکبر کے گھر پر میزائل داغے گئے تھے وہاں پھر سے مورچے قائم کئے گئے ہیں‘۔ اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ہم بلوچستان میں آپریشن کی ایک بڑے عرصے سے نشاندہی کرتے رہے ہیں۔’ کچھ لوگوں نے ہماری بات مانی مگر اکثر نے نظرانداز کیا، مارچ میں آپریشن کیا گیا جس میں ساٹھ، ستر افراد شہید ہوئے۔ بعد میں آئینی کمیٹی بناکر ہمارے زخموں پر نمک چھڑکا گیا‘۔ بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے لیا گیا اسلحہ بارود بلوچوں پر برسایا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم پاکستان کو فوجی امداد فراہم کرنے والے ممالک سے سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ اسلحہ اس لیے دیا جا رہا ہے کہ نہتے بلوچوں پر برسایا جائے اوراگر اس مقصد کے لیے دیا جارہا ہے تو وہ پھر اپنی لغت میں سے حقوقِ انسانی کے الفاظ نکال دیں‘۔ اس موقع پر بی این پی کے رہنما طاہر بزنجو نے کہا کہ ’پاکستان کی ساٹھ سالہ تاریخ میں ہر دس سال کے بعد بلوچستان میں آپریشن کیا گیا ہے مگر سب کا ایک ہی نتیجہ نکلا ہے اور خلیج بڑھی ہے۔ بلوچستان ایک سیاسی مسئلہ ہے اس کو گفت و شنید کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے‘۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ بدھ کے روز بلوچستان میں یوم سیاہ منایا جائیگا۔ | اسی بارے میں کوہلو: کشیدگی جاری، اسلحہ بر آمد20 December, 2005 | پاکستان فوجی آپریشن کے خلاف یوم سیاہ 19 December, 2005 | پاکستان بلوچستان: کوہلو میں’فوجی آپریشن‘ 19 December, 2005 | پاکستان کوہلو میں کشیدگی برقرار18 December, 2005 | پاکستان کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں حالات کشیدہ17 December, 2005 | پاکستان ہیلی کاپٹر پر حملہ، فوجی جنرل زخمی15 December, 2005 | پاکستان بلوچستان:’فوجی آپریشن نہیں ہوگا‘15 December, 2005 | پاکستان مشرف دورہ: پھر راکٹ داغے گئے14 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||