کوہلو میں مزید حملوں کی اطلاعات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر کوہلو سے مزید حملوں کے اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بدھ کی صبح تلی کے علاقے میں فوسرز نے کارروائی کی ہے ۔ کوہلو سے رکن بلوچستان اسمبلی بالاچ مری نے کہا ہے کہ کوہلو میں ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن تعداد معلوم نہیں ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے آٹھ مشتہ افراد کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔ تلی سے انور مری نامی شخص نے ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ آج صبح ہیلی کاپٹروں کے ذریعے شدید فائرنگ کی گئی ہے جس سے قریب جھگیوں میں موجود خواتین اور بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ جنگی طیاروں کی آوازیں دور دور تک سنی جا رہی ہیں اور لگ ایسا رہا ہے کہ دیگر دیہاتوں پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔ نواب خیر بخش مری کے بیٹے اور رکن صوبائی اسمبلی بالاچ مری نے ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ کوہلو کے مختلف مقامات پر شدید حملے کیے جا رہے ہیں جس سے ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن ان کی تعداد کا علم نہیں ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ بڑا نقصان مال مویشی کا ہو رہا ہے۔ گزشتہ روز نامعلوم افراد نے سبی کے قریب ریلوے ٹریک کو دھماکے سے نقصان پہنچایا گیاہے اور چماؤلنگ کے قریب ایک گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی ہے لیکن ان واقعات میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ فرنٹییر کور کے ترجمان نے کہا ہے مشتبہ افراد کے خلاف جاری کارروائی میں کچھ ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن ان کو یہ معلوم نہیں ہے کہ کتنے لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے آٹھ مشتبہ افراد گرفتار کیے ہیں جن سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے اور اس کے علاوہ کچھ اسلحہ بھی برآمد کیا ہے۔ ان سے جب پوچھا کے کوئٹہ اور دیگر قریبی علاقوں سے بھی جنگی جہازوں کے اڑنے کی آوازیں آ رہی ہیں تو انھوں نے کہا ہے کہ یہ تو یہاں تربیت کی معمول کی پروازیں ہیں۔ | اسی بارے میں کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں حالات کشیدہ17 December, 2005 | پاکستان کوہلو میں کشیدگی برقرار18 December, 2005 | پاکستان بلوچستان: کوہلو میں’فوجی آپریشن‘ 19 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||