’آئینی ضمانت کے سوا سب منظور‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم بنانے کے لیے سندھی جو بھی شرائط پیش کریں وہ اس معاہدے پر ہاتھوں کے تو کیا پاؤں کے انگوٹھے بھی لگانے کے لیے تیار ہیں۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کے روز خود فون کرکے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کالا باغ ڈیم سے نہریں نکالنے کی صورت میں سندھ کے ازخود آزاد ملک بن جانے کی آئینی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ ان کے مطابق ایسی باتیں آئین میں نہیں لکھی جاسکتیں لیکن سندھ والے جو بھی شرائط پیش کریں وہ معاہدے کی صورت میں اس پر اپنے انگوٹھے لگانے کو تیار ہیں۔ واضح رہے کہ انیس دسمبر کو وزیراعظم ہاؤس میں کالا باغ ڈیم پر اتفاق رائے حاصل کرنے کے لیے حکمران جماعت کے سندھ سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمان کا ایک اجلاس ہوا تھا۔ اس اجلاس میں ڈاکٹر عبد الغفار جتوئی نے صدر سے کہا تھا کہ سندھ والے کالا باغ ڈیم کی حمایت کرنے کو تیار ہیں بشرطیکہ اگر حکومت آئین میں ترمیم کرکے یہ لکھے کہ ’کالا باغ ڈیم سے جس دن کوئی نہر نکلی اس دن ازخود سندھ آزاد ملک بن جائے گا اور پاکستان کا حصہ نہیں رہے گا‘۔ اس تجویز پر چودھری شجاعت حسین اور مشاہد حسین نے حمایت کی تھی لیکن صدر جنرل پرویز مشرف خاموش ہوگئے تھے۔ چودھری شجاعت حسین نے آج بی بی سی کو اس لیے فون کیا کیوں کہ اس اجلاس کی رپورٹ بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر شائع ہونے کے بعد مختلف پاکستانی اخبارات میں نمایاں طور پر شائع ہوئی۔ چودھری شجاعت کا کہنا ہے کہ اس اجلاس کے بعد میں کیا ہوا اس کے بارے میں بھی لکھا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف نے ڈاکٹر عبدالغفار جتوئی کی تجویز پر سخت رد عمل ظاہر کیا تھا اور انہوں نے ( چودھری شجاعت) بھی تجویز پیش کنندگان سے کہا تھا کہ ایسی باتیں آئین میں نہیں لکھی جاسکتیں۔ | اسی بارے میں کالاباغ ڈیم، سندھی میڈیا اور اشتہارات 20 December, 2005 | پاکستان ’پہلے اختلافات ختم کرائیں گے‘21 December, 2005 | پاکستان ’ کالاباغ تو بنے گا، آگے کی بات کریں‘21 December, 2005 | پاکستان ’ڈیم کا انتخاب کریں یا پاکستان کا‘22 December, 2005 | پاکستان ڈیم: مشرف جلسے میں حمایت کا فقدان22 December, 2005 | پاکستان کالاباغ ڈیم: پگارا نےحمایت کر دی22 December, 2005 | پاکستان کراچی میں قوم پرستوں کی ریلی22 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||