BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 December, 2005, 17:02 GMT 22:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ڈیم کا انتخاب کریں یا پاکستان کا‘

کراچی میں ڈیم کے خلاف تینوں صوبوں کے مظاہرین
پاکستان کے متنازعہ آبی منصوبے کالا باغ ڈیم کے حوالے سے صوبہ سندھ جمعرات کے روز سیاسی سرگرمیوں کے مرکز رہا۔

صوبے کے ایک حصے میں قوم پرست اور اپوزیشن جماعتوں کی اپیل پر ڈیم کے خلاف مارچ کیا گیا تو دوسرے حصے میں صدر پرویز مشرف نے ڈیم کی حمایت میں رابطہ مہم کا آغاز کیاہے۔ اسی دوران پیر پگاڑہ نے کھل کر کالاباغ ڈیم کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔

کراچی میں اینٹی گریٹر تھل کینال اور کالا باغ ڈیم ایکشن کمیٹی کی کال پر کیے گئے احتجاجی مارچ میں سندھ کی تمام قوم پرست تنظیموں اور اے این پی سمیت پونم، اے آر ڈی اور ایم ایم اے کے رہنما قائم علی شاہ، اسفند یار ولی، اختر مینگل، رسول بخش پلیجو، ڈاکٹر قادر مگسی، خالد محمود سومرو اور گل محمد جاکھرانی شریک ہوئے۔

یہ مارچ جمعرات کو دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب قائداعظم محمد علی جناح کے مزار سے شروع ہوا اور سندھ ہائی کورٹ کے سامنے سہ پہر چار بجے اختتام پذیر ہوا۔

مارچ میں اندرون سندھ کے لوگوں کی بھی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ یہ لوگ کالاباغ ڈیم اور صدر مشرف کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔

مارچ کے اختتام پر منعقدہ جلسۂ عام سے پی پی پی کے صوبائی رہنما سید قائم علی شاہ، اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی، بی این پی کے سردار اختر مینگل، عبدالحئی بلوچ، عوامی تحریک کے رسول بخش پلیجو، سندھ ترقی پسند پارٹی کے ڈاکٹر قادر مگسی، سندھ نیشنل فرنٹ کے ممتاز علی بھٹو، جے یو آئی کے خالد محمود سومرو، ایاز لطیف پلیجو، رضا ربانی، یوسف مستی خان اور اکرم شاہ نے خطاب کیا۔

اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی کا کہنا تھا کہ انیس سو اکہتر میں مشرقی اور مغربی پاکستان کو لڑایا گیا اور آج پنجاب کو تین صوبوں سے لڑایا جارہا ہے۔ ’اس کا انجام بھی وہی نکلے گا جو پہلے نکلا تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ مشرف پشتونوں کو ڈبونا اور سندھیوں کو پیاسا مارنا چاہتے ہیں۔ ’اگر مرنے کی بات ہے تو اپنی موت کا راستہ ہم خود چنیں گے۔ پہلے چھوٹے صوبوں کے حقوق کی بات کی جاتی تھی مگر اب ان صوبوں کی بقا کی لڑائی ہے‘۔

اسفند یار ولی کا کہنا تھا کہ ’دو راستے ہیں یا تو ہم مشرف کے پاؤں پکڑ لیں یا ان کا گریبان۔ میں تو باچہ خان کا پوتا ہوں پیر نہیں پکڑونگا بلکہ گریبان پکڑونگا پھر چاہے میرا بازو توڑدیا جائے‘۔

کراچی ریلی
 میں تو باچہ خان کا پوتا ہوں پیر نہیں پکڑونگا بلکہ گریبان پکڑونگا پھر چاہے میرا بازو توڑدیا جائے
اسفند یار ولی

انہوں نے کہا کہ ’جس دن کالاباغ ڈیم کا اعلان کیا گیا اس دن ہم استعفیٰ دیکر سڑکوں پر یہ جنگ لڑینگے‘۔

سندھ نیشنل فرنٹ کے رہنما ممتاز بھٹو نے کہا کہ ’پاکستان بننے کے بعد ہم سے ہماری زمینیں اور کاروبار چھینے گئے اور اب پانی چھینا جارہا ہے۔ مگر ہمیں متحد ہوکر اسلام آباد کا قلعہ گرانا پڑےگا۔ پاکستان اس لیے نہیں بنایا گیا تھا کہ اس پر اسلام آباد کی آمریت ہو اور مرکز صوبوں کا استحصال کرے‘۔

سید قائم علی شاہ نے کہا کہ ’ہم آپس میں نہیں لڑیں گے، ہم جرنیلوں سے لڑیں گے۔ اپنی جان دیں گے مگر کالاباغ ڈیم نہیں بننے دیں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ اب کالاباغ ڈیم کے خلاف کوئٹہ، پشاور اور لاہور میں مارچ اور احتجاج ہونگے۔ پورے ملک کے عوام اس کو رد کرینگے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد اختر مینگل کا کہنا تھا کہ پنجاب اور پنجاب کی فوج نے سندھیوں، بلوچوں اور پٹھانوں کی غیرت کو للکارا ہے۔ کالاباغ ڈیم دراصل پنجاب ڈیم ہے۔ اپنے مفادات کے لئے حکمران چھوٹے صوبوں کی قربانی دیتے رہے ہیں۔

عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اٹھارہویں یا انیسویں صدی نہیں بلکہ اکیسویں صدی ہے۔ یہ عوام کی صدی ہے جس میں اس کے خلاف فیصلہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ’مشرف کہتے ہیں کہ میں آئینی ضمانت دیتا ہوں، عدلیہ کی گارنٹی دیتا ہوں، کس گارنٹی کی بات کرتے ہیں؟ وہ آئین جس کے انہوں نے ٹکڑے کر کے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیے اور عدلیہ کو انہوں نے دبا رکھا ہے‘۔

کالا باغ ڈیم تنازعہ
 مشرف کہتے ہیں کہ میں آئینی ضمانت دیتا ہوں، عدلیہ کی گارنٹی دیتا ہوں، کس گارنٹی کی بات کرتے ہیں؟ وہ آئین جس کے انہوں نے ٹکڑے کر کے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیے اور عدلیہ کو انہوں نے دبا رکھا ہے
رسول بخش پلیجو

انہوں نے کہا کہ یہاں چھوٹی قوموں کو بند وارڈ کیا گیا ہے یہ قائد اعظم کا پاکستان نہیں بلکہ امریکہ کا پاکستان ہے۔

ترقی پسند پارٹی کے رہنما ڈاکٹر قادر مگسی کا کہنا تھا کہ ’مشرف فوج کے زور پر پوری دنیا کو گمراہ کر رہے ہیں۔ مگر کالا باغ ڈیم موت کا دوسرا نام ہے جسے کسی صورت میں قبول نہیں کریں گے‘۔

دوسری جانب پاکستان کےصدر جنرل پرویز مشرف نے سندھ کے فنی ماہرین اور کاشتکاروں سے کالا باغ ڈیم کی حمایت کرنے کی اپیل کی ہے۔

سکھر میں کالا باغ ڈیم کی عوامی رابطہ مہم کےسلسلے میں ہونے والے پہلے جلسے سے خطاب کرتے ہوئےصدر مشرف نے کہا کہ وہ کالا باغ ڈیم کی ’ری ڈیزائننگ‘ اور ڈیم کا نگران سندھ میں سے مقرر کرنے کو تیار ہیں۔

کالا باغ ڈیم کی عوامی رابطہ مہم کے پہلاجلسہ جمعرات کو سکھر میں منعقد کیا گیا جس میں دس اضلاع کے منتخب نمائندے، ناظم، نائب ناظم، کاشتکار اور اقلیتی رہنما شریک تھے۔

جنرل پرویز مشرف
مشرف نے ڈیم کی حمایت کے لیے عوامی رابطہ مہم شروع کر دی ہے

انہوں نے یہ یقین دہانی بھی کرانے کی کوشش کی کہ اس ڈیم سے کوئی نہر نہیں نکالی جائےگی تاہم ان کا جلسہ حمایت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

صدر مشرف نےحاضرین جلسہ کو یقین دہانی کروائی کہ وہ اس منصوبے کے حوالے سے قانونی اور پارلیمانی تحفط فراہم کریں گے اور سپریم کورٹ سے گارنٹی کا فیصلہ دلوایا جائےگا۔

آبی ذخیروں کی تعمیر اور پانی کی موجودگی کے تعین کے لیے بنائی گئی فنی کمیٹی کی رپورٹ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ نو میں سے سات ممبران نے کالاباغ ڈیم سمیت بڑے ڈیموں کی حمایت کی ہے جبکہ کمیٹی کے سربراہ اے این جی عباسی کے ریمارکس ہیں کہ سب سے پہلے اسکردو ڈیم تعمیر کیا جائے جبکہ سندھ کے دوسرے اراکین نے تجویز دی ہے کہ کالاباغ ڈیم میں سے نہریں نہ نکالی جائیں۔

تین صوبوں کی اسمبلیوں میں سے کالاباغ ڈیم کے خلاف قرارداد پاس ہونے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سرحد اور بلوچستان اسمبلیوں میں اب صورتحال مختلف ہے جبکہ متحدہ سے وہ رابطے میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن صرف سیاسی مخالفت کی وجہ سے اس کو ایشو بنا رہی ہے۔

صدر پرویز مشرف نے جلسے کے شرکاء سےمخاطب ہو کر کہا ہے کہ ’لگتا ہے میں نے آپ کی نبض پر ہاتھ رکھ دیا ہے‘۔

اس جلسے میں پندرہ افراد کو خطاب کرنے کا موقع دیا گیا۔ ان سب کا کہنا تھا کہ کالاباغ ڈیم کا نام اب ان کے لیے ذہنی تناؤ کا سبب بن گیا ہے جسےکسی صورت میں قبول نہیں کیا جائےگا۔

دریں اثنا پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل) کے سربراہ اور سندھ میں حُروں کے روحانی پیشوا پیر پگاڑہ نے کالاباغ ڈیم کے منصوبے کی حمایت کردی ہے۔ وہ پہلے سندھی رہنما ہیں جنہوں نے اس ڈیم کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

کراچی میں اپنی رہائش گاہ پر جمعرات کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم بننے سے حُر (ان کے مرید) آباد ہوں گے اور سندھ کی زمین بنجر ہونے سے بچ جائےگی۔

اپنے اسمبلی ممبران کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (فنکشنل) کے ارکان اسمبلی کو کالاباغ ڈیم کی تعمیر پراعتراض نہیں بلکہ انہوں نے خدشات کا اظہار کیا تھا۔

پیر پگاڑہ کا کہنا ہے کہ اس ڈیم کی تعمیر پر کسی بھی زمیندار کو اعتراض نہیں ہے، جو اعتراض کر رہے ہیں وہ زمیندار نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی نے کالاباغ ڈیم کے منصوبے کی حمایت کی تھی۔ بینظیر بھٹو نے تو اس کا نام ’انڈس ڈیم‘ بھی تجویز کیا تھا۔

پیرپگاڑہ کا خیال تھا کہ سندھ میں گورنر راج لگ سکتا ہے اور صدر مشرف کسی وقت بھی اپنی مرضی کی نگران حکومت مقرر کرسکتے ہیں۔ ایسی نوعیت کی تبدیلی وفاق میں بھی رونما ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ ایسے وقت میں پیرپگاڑہ نے ڈیم کی حمایت کی ہے جب اپوزیشن کے علاوہ سندہ حکومت سے لےکر حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) تک اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔

اسی بارے میں
کراچی میں قوم پرستوں کی ریلی
22 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد