BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 December, 2005, 13:08 GMT 18:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ کالا باغ اتنا بڑا مسئلہ ہے نہیں‘

ڈیم
’ کالاباغ ڈیم جتنا اہم معاملہ بنا ہوا ہے وہ یہ ہے نہیں‘
پاکستان میں زراعت کے لیے اوسطا سالانہ بارہ ملین ایکڑ فٹ پانی کی کمی رہتی ہے۔ سندھ کے آخری سرے پر دلدلی نباتات (مینگرووز) کے علاقے کو بچانے اور سمندر کو اندر کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے بھی کم سے کم اتنا ہی پانی درکار ہے۔

سولہ کروڑ آبادی کے پینے اور گھریلو استعمال کے لیے بھی پانی کی ضرورت بڑھتی جارہی ہے۔

اس سارے منظر میں کالاباغ ڈیم کا چھ ملین ایکڑ فٹ پانی اتنا اہم نہیں جتنا اس کی حمایت اور مخالفت کر کے اسے بنادیا گیا ہے۔ اس ڈیم سے نہ تو وہ خوشحالی آئے گی جس کا اسلام آباد کے حکمران پنجاب کے لوگوں کو خواب دکھا رہے ہیں اور اگر یہ ڈیم نہیں بنا تو بھی اگلے دس سال تک پانی کے کسی ایسے غیرمعمولی بحران کا خدشہ نہیں جو ڈیم بنائے بغیر حل نہ ہوسکے۔

گرمی میں پہاڑوں کی برف پھگلنے سے اور مون سون کی بارشوں سے پاکستان کے دریاؤں میں جو پانی آتا رہا ہے وہ تو آتا ہی رہے گا۔ یہ کم اور زیادہ تو ہمیشہ ہوتا ہی رہا ہے۔ حکومت منگلا کی جھیل کو اونچا کرکے اس میں پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد بڑھانے پر کام شروع کرچکی ہے۔

دی ورلڈ کنزرویشن یونین (آئی سی یو این) کی رپورٹ کےمطابق تربیلا اور منگل ڈیموں کی استعداد تقریبا ساڑھے چودہ ملین ایکڑ فٹ ہے اور ان کی استعداد صفر تک پہنچنے میں انہیں اگلے پینتیس سے پچاسی سال لگیں گے۔

پاکستان کی سولہ کروڑ آبادی کے لیے اس وقت فی آدمی بارہ سو کیوبک میٹر پانی دستیاب ہے۔ دنیا کے بہت سے ملکوں کی نسبت یہاں پانی کی فراہمی بہت اچھی ہے۔ دنیا میں ایک سو انتیس ملک ایسے ہیں جن میں پانی کی دستیابی پاکستان کی نسبت کم ہے۔

پاکستان کے دریاؤں میں کل دستیاب پانی کا نوے فیصد سے زیادہ زراعت اور آبپاشی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور باقی پینے کے اور گھریلو استعمال کے لیے۔ اس ملک کا وسیع و عریض آبپاشی کا نظام ہے جس میں تین بڑے ڈیمز، انیس چھوٹے ڈیمز اور بیراج جبکہ تینتالیس نہریں ہیں جن کی ستاون ہزار کلومیٹر لمبائی ہے۔

انیس سو نوے میں چاروں صوبوں کے درمیان نہری (یا دریائی) پانی کی تقسیم کا معاہدہ ہوا تھا۔ اس سمجھوتے میں کہا گیا کہ ملک کے دریاؤں میں آبپاشی کےلیے سالانہ دستیاب پانی تقریبا ایک سو پانچ ملین ایکڑ فٹ ہے حالانکہ یہ دستیابی اوسطا ایک سو تین ملین ایکڑ فٹ تھی۔

پانی کے معاہدہ کے وقت بھی ماہرین نے اس بات پر اعتراض کیا تھا کہ جو پانی معاہدہ میں ظاہر کیا گیا ہے وہ حقیقت سے زیادہ ہے لیکن اس وقت یہ جواب دیا گیا تھا کہ اضافی بارہ ملین ایکڑ فٹ پانی آبی دخائر بنا کر حاصل کیا جائے گا۔ کالا باغ ڈیم انہیں ذخائر میں سے ایک ہے۔ سکردو اور بھاشا دوسرے منصوبے ہیں۔

کالا باغ ڈیم سے گرمی کے موسم میں چھ ملین ایکڑ فٹ پانی جمع کیا جاسکے گا۔ اس میں سے کچھ پانی تو جھیل میں رہنے کی وجہ سے بخارات بن کر ہوا میں اڑ جائے گا۔ باقی پانی زیادہ سے زیادہ اس کام آئے گا کہ تربیلا، منگلا اور چشمہ کی جھیلوں کی تہہ میں مٹی جمنے سے پانی جمع کرنے کی گنجائش میں جو تین ملین ایکڑ فٹ کی کمی آئی ہے اسے پورا کردے۔

کالاباغ ڈیم کے بننے سے پنجاب کو زیادہ سے زیادہ پونے تین ملین ایکڑ فٹ پانی کا فائدہ ہوگا۔ اگر یہ ڈیم نہ بنے تب بھی پنجاب اپنے حصے کا یہ پانی تو نہیں چھوڑ دے گا۔ تربیلا میں چشمہ جہلم لنک نہر پہلے سے موجود ہے جس سے سندھ کے پانی کو پنجاب کی نہروں کی طرف موڑاجاسکتا ہے۔

سندھ کی مخالفت کے باوجود پنجاب میں تھل کینال کی تعمیر مکمل ہونے والی ہے اور اس میں بھی تقریبا دو ملین ایکڑ فٹ پانی موڑا جاسکتا ہے۔حقیت یہ ہے کہ پنجاب کی تمام سالانہ اور ششماہی نہروں کو اگر ایک ساتھ کھول دیاجائے تو تمام دریاؤں کا پانی ان میں بہنے لگے گا۔ ظاہر ہے ایسا کبھی نہیں ہوا۔ کالاباغ ڈیم بنا کر ہی پنجاب سندھ کے پانی کو قابو یا بند کرسکتا ہے یہ بات غیر حقیقی ہے۔

جتنا بھی جھگڑا رہتا ہو پنجاب اور سندھ دونوں ایک دوسرے کی ضرورت کو خاصی حد تک پورا کرتے آئے ہیں۔ تاہم پانی کی بندش کا خوف اندرون سندھ کی سیاست میں اہم عنصر ہوسکتا ہے جہاں لوگوں کی معیشت صرف اور صرف زراعت کے گرد گھومتی ہے اور دریائے سندھ کے ساتھ ان کی ایک تہذیبی اور جذباتی وابستگی ہے۔

دوسری طرف کالاباغ ڈیم کا پنجاب کو اتنا معمولی سا فائدہ ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے پنجاب کے عوام کو کالاباغ ڈیم کے حق میں جذباتی بنادیا ہے۔ کالاباغ ڈیم کا معاملہ اٹھا کر اور پنجاب کو اس کے بارے میں سبز باغ دکھا کر شائد کچھ لوگ یہاں سے ایک عام الیکشن اس نعرہ پر جیتنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے پنجاب کے لیے کالا باغ ڈیم بنادیا۔

کالاباغ ڈیم بن گیا تو سندھ صحرا نہیں بنے گا اور نہ پنجاب میں پانی کی ریل پیل ہوجائے گی۔ اور اگر یہ ڈیم نہ بنا تب بھی کوئی بڑا فرق نہیں پڑے گا۔ کھالوں، نہروں اور دریاؤں کے کناروں کو پختہ کرکے آبپاشی کے لیے چالیس سے پچاس ملین ایکڑ فٹ پانی کی دستیابی بڑھائی جاسکتی ہے۔ دوسری طرف فرانس اور اسرائیل جیسے ملکوں میں رائج آبپاشی کے جدید طریقوں کے استعمال سے فصلوں کے لیے پانی کی ضرورت تقریبا آدھی کی جاسکتی ہے۔

پنجاب کو یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ڈھائی تین ملین ایکڑ فٹ پانی کی اتنی حیثیت ہے کہ اس کے لیے چھوٹے صوبوں سے گالی کھائی جائے اور بدنامی مول لی جائے۔ جب دس پندرہ سال بعد پانی کچھ کم ہوگا تو سب کے لیے ہوگا۔ اس وقت تک پانی محفوظ کرنے کے دوسرے طریقے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

دوسری طرف سندھ ہے جہاں پر فی ایکڑ پانی کا استعمال اس وقت بھی پنجاب سے دگنا ہے یعنی دو فٹ پانی فی ایکڑ کے مقابلہ میں چار فٹ فی ایکڑ۔ سندھ کے دو شاخے ڈیلٹا اور مینگرووز کو گرمی کے تین چار مہینوں کے سوا پانی اس وقت بھی نہیں ملتا۔ اتنا پانی دریاؤں میں ہے ہی نہیں۔ دریائے سندھ کا شاندار سو سال پرانا ماضی جب کوٹری سے نیچے سمندر میں سو ملین ایکڑ فٹ پانی بہتا تھا اب واپس نہیں آسکتا۔

اسی بارے میں
کراچی میں قوم پرستوں کی ریلی
22 December, 2005 | پاکستان
مشرف جلسے میں حمایت کا فقدان
22 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد