’کبھی پانی پینے پلانے پہ جھگڑا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
موجودہ پاکستان کی آبادی کے لحاظ سے دو بڑے صوبوں پنجاب اور سندھ کے درمیان پانی کے معاملات پر اختلافات کی تاریخ ایک صدی پرانی ہے۔ اٹھارہ سو تینتالیس میں سندھ اور چار برس بعد پنجاب پر جب برطانوی راج قائم ہوا تو انگریز نے اس خطے کی زرعی اہمیت کو سمجھتے ہوئے آبپاشی کی ترقی کے منصوبوں کا آغاز کیا۔ اٹھارہ سو انسٹھ کے قریب پنجاب میں اپر باری دواب اور بعد میں دیگر آبی منصوبے شروع ہوئے۔ اٹھارہ سو بیاسی کے قریب پنجاب حکومت نے جب ’تھل پروجیکٹ‘ کی منظوری چاہی تو سندھ نے اعتراض کیا اور مجھے دستیاب دستاویزات کے مطابق پہلی بار پنجاب اور سندھ میں اختلافات پیدا ہوئے۔
سندھ نے اعتراض کیا کہ دریائے سندھ پر اس وقت تک پنجاب کو کسی آبی منصوبے کی اجازت نہ دی جائے جب تک سندھ کی آبی ضروریات پوری نہ ہوں۔ انگریز سرکار نے سندھ کے اعتراضات کو مانتے ہوئے پنجاب کے پیش کردہ ’تھل پروجیکٹ‘ کے منصوبے کو رد کردیا اور پنجاب اور سندھ کے درمیان اختلافات بڑھنا شروع ہوئے۔ بیسویں صدی کی ابتدا میں ’انڈیا ایریگیشن کمیشن‘ بنا اور اس کمیشن نے باضابطہ طور پر پنجاب سے کہا کہ ’انڈس رور سیسٹم‘ پر کوئی بھی آبی منصوبہ شروع کرنے سے قبل سندھ کی رضامندی حاصل کی جائے۔ اس دوران دونوں صوبوں کے درمیان مختلف منصوبوں پر اختلافات کی خلیج بڑھتی گئی اور انیس سو انیس میں ’گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ‘ نافذ ہوا جس میں لازمی قرار دیا گیا کہ پنجاب اور سندھ کے آبی منصوبوں پر اختلافات کی صورت میں حتمی فیصلہ ’وائسرائے‘ کریں گے جو فریقین ماننے کے پابند ہوں گے۔ جب انیس سو انیس میں لارڈ چیلمس فورڈ کے پاس سندھ نے سکھر بیراج بنانے کا منصوبہ پیش کیا تو پنجاب نے دوبارہ تھل پروجیکٹ پیش کیا۔ لارڈ نے سکھر بیراج منظور اور تھل پروجیکٹ یہ کہتے ہوئے مسترد کیا کہ جب تک سندھ کی ضروریات پوری نہیں ہوتیں اس وقت انڈس پر پنجاب کا منصوبہ منظور نہیں ہوگا۔ پنجاب اور سندھ کی زراعت کے اعتبار سے اہمیت تھی اور چونکہ انگریز سرکاری پنجاب میں پہلے ہی بعض منصوبے مکمل کرچکی تھی اور سکھر بیراج ان کے دور کا سندھ میں پہلا منصوبہ تھا اس لیے اس پر کام شروع ہوگیا۔ لارڈ چیلمس فورڈ کی جگہ جب انگریز سرکار نے لارڈ ریڈنگ کو تعینات کیا تو انیس سو پچیس میں دریائے سندھ پر مجوزہ آبی منصوبہ ’تھل پروجیکٹ‘ پنجاب نے تیسری بار منظوری کے لیے پیش کیا۔ سندھ نے اپنےاعتراضات دوہرائے کہ پنجاب میں دریائے سندھ کے علاوہ پانچ دیگر دریا ہیں اس لیے انڈس پر ان کا کوئی آبی منصوبہ سندھ کی ضروریات پوری ہونے تک منظور نہ کیا جائے اور لارڈ ریڈنگ نے بھی پنجاب کا منصوبہ رد کردیا۔
لارڈ ریڈنگ نے تھل پروجیکٹ مسترد کرتے ہوئے لکھا کہ سندھ ’دریا کے آخری چھیڑے پر ہے اور ان کے مفاد کی خاطر یہ منصوبہ رد کیا جاتا ہے‘۔ جس سے پنجاب اور سندھ میں آبی منصوبوں پر اختلافات مزید بڑھتے ہی چلے گئے۔ پنجاب اور سندھ میں آبپاشی کے منصوبوں پر اختلافات اور بداعتمادی بڑھنے کے بعد انگریز سرکار نے دو کمیشن قائم کیے۔ انیس سو پینتیس میں ’اینڈرسن کمیشن‘ اور انیس سو اکتالیس میں راؤ کمیشن بنے لیکن پنجاب اور سندھ کے درمیان کسی کمیشن کی سفارشات پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ انگریز سرکار میں آخری بار انیس سو پینتالیس میں ’سندھ پنجاب معاہدہ‘ ہوا جس کے تحت پنجاب کو دریائے سندھ پر آبی منصوبوں کے بدلے سندھ میں بیراج اور دیگر آبی منصوبوں کے لیے رقم فراہم کرنی تھی۔ لیکن معاہدے کے بعد تیرہ اکتوبر انیس سو پینتالیس کو ہی پنجاب کے سیکرٹری آبپاشی نے سندھ کے سیکرٹری مالیات کو خط لکھ کر کہا کہ پنجاب پیسے نہیں دے سکتا۔ بعد میں تقسیم ہوگئی اور پاکستان بن گیا اور اس معاہدے پر بھی عمل نہیں ہوسکا۔ پاکستان بننے کے بعد چار کمیشن اور کمیٹیاں بنیں لیکن بدقسمتی سے کسی کمیشن یا کمیٹی کی سفارشات پر دونوں صوبوں میں اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔
انیس سو اڑسٹھ میں اختر کمیٹی، انیس سو ستر میں فضل اکبر کمیشن، انیس سو اکاسی میں انوار الحق کمیشن اور انیس سو تراسی میں حلیم کمیٹی بنی۔ پاکستان بننے کے بعد دریائے سندھ پر صوبہ سندھ میں کوٹری اور پنجاب میں انیس سو اکسٹھ میں جب بھارت اور پاکستان میں ’انڈس بیسن ٹریٹی‘ ہوا اور فوجی صدر ایوب خان نے تین دریا بھارت کو دیے اور اس کے بدلے حاصل کردہ ایوب خان کے زمانے میں ہی چشمہ جہلم ( سی جے) لنک کینال بنا اور اس نہر کے ذریعے دریائے سندھ سے پانی دریائے جہلم میں ڈالا جاتا ہے۔ جس پر سندھ نے شدید اعراضات کیے اور طے پایا کہ یہ نہر اس وقت بہے گی جب دریائے سندھ میں صوبہ سندھ کی ضروریات سے زیادہ پانی ہوگا۔ دونوں صوبوں کے درمیان سی جے کینال پراختلافات چلتے رہے اور تین جولائی انیس سو بہتر میں وفاق کے نمائندے کے طور پر حفیظ پیرزادہ، سندھ سے ممتاز علی بھٹو اور پنجاب سے غلام مصطفیٰ کھر نے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کے مطابق پنجاب نےتسلیم کیا کہ سندھ کی رضامندی کے بنا وہ اس نہر کو مستقل نہیں بہائے گا۔
لیکن چند ماہ بعد سندھ نے معاہدے کی خلاف ورزیوں اور پنجاب پر پانی چوری کرنے کے الزامات عائد کرنا شروع کیے اور دونوں صوبوں میں اختلافات اور الزامات کا سلسلہ جاری رہا لہٰذا انیس سو چوہتر میں سی جے لنک کینال کے متعلق ایک اور معاہدہ ہوا جس پر حفیظ پیرزادہ، افضل وٹو اور جام صادق نے دستخط کیے۔ اس میں ایک بار پھر طے پایا کہ سندھ کی جانب سے یہ کینال بند کرنے کی اطلاع کے تین روز کے اندر پنجاب یہ نہر بند کردے گا۔ ان معاہدوں کے باوجود دونوں صوبوں میں اختلافات ختم نہیں ہوئے اور انیس سو پچاسی میں پنجاب کے گورنر، جنرل جیلانی نے جب دوبارہ مبینہ طور پر زبردستی یہ نہر کھلوائی تو اختلافات مزید بڑھ گئے۔ آخرکار انیس سو اکانوے میں چاروں صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا ایک معاہدہ ہوگیا۔ اس معاہدے میں کہا گیا کہ نئے آبی ذخائر تعمیر ہوں گے۔ لیکن اس میں کالا باغ ڈیم کا ذکر نہیں ہے۔ اس معاہدے کے دو برس بعد ہی سندھ کے مطابق پنجاب نے خلاف ورزی شروع کردی اور انیس سو چورانوے میں پانی کی تقسیم کا ایک چشمہ جہلم لنک کینال جو کہ غیر مستقل بہائی جانے والی نہر تھی اور بعد میں مستقل بہنے والی نہر بن گئی اس نے سندھ میں اس سوچ کو جنم دیا کہ جب ایک نہر کے بارے میں معاہدے پر عمل نہیں ہوا تو کل کلاں کالا باغ ڈیم بنا کر سندھ کا پانی نہ روکنے کی کیا گارنٹی ہوگی۔ | اسی بارے میں بگھلیار:ثالثی درخواست زیرغور 21 January, 2005 | پاکستان عالمی بنک کو پاکستان کا خط19 January, 2005 | پاکستان پاکستان: ربیع میں پانی کی قلت16 December, 2004 | پاکستان پاکستان میں خشک سالی کی وارننگ10 September, 2004 | پاکستان ’دریائے سندھ ہمالیہ سےنہیں قراقرم سے‘14 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||