BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بگھلیار:ثالثی درخواست زیرغور
بھارت اور پاکستان بگھلیار ڈیم کے تنازع پر دوطرفہ مذاکرات کر چکے ہیں
بھارت اور پاکستان بگھلیار ڈیم کے تنازع پر دوطرفہ مذاکرات کر چکے ہیں
عالمی بینک نے کہا ہے کہ اس نے پاکستان کی طرف سے بگھلیار ڈیم پر ثالثی کی درخواست کو رد نہیں کیا ہے اور وہ اس پر غور کر رہا ہے۔

ورلڈ بینک کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی درخواست زیر غور ہے۔

بھارت نے کشمیر سے پاکستان میں داخل ہونے والے دریائے چناب پر بگلیہار ڈیم اور پن بجلی گھر تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جو پاکستان کے مطابق سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

ورلڈ بینک نے یہ بیان بھارت کے اخبارات میں شائع ہونے والی ان خبروں کے بعد کیا ہے جس میں دعوی کیا گیا کہ تھا کہ ورلڈ بینک نے پاکستان کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

پاکستان نےعالمی بنک سے کہا ہے کہ بگلیہار ڈیم کی تعمیر کے معاملے کو حل کرنے کے لیے ایک غیر جانبدار ماہر کی تقرری کرئے۔

پاکستان اور بھارت کے مابین کئی دفعہ اس متنازعہ ڈیم پر بات چیت ہوئی تھی لیکن بے سود رہی۔

عالمی بنک کا کہنا ہے کہ وہ اس درخواست کا جائزہ لے گا اور معاملات کو 1960 میں دونوں ممالک کے مابین ہونے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت حل کرنے کی کوشش کرے گا۔

بنک کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ اس معاہدے کی زیادہ تر شقوں پر عملدرآمد ہو چکا ہے لیکن کچھ معاملات ابھی باقی ہیں۔

عالمی بنک کا خیال ہے کہ اگر یہ معاملہ کمیشن میں تصفیے تک نہیں پہنچتا تو اسے ایک غیر جانبدار ماہر کے سپرد کیا جا سکتا ہے۔ اس ماہر کی تقرری یا تو دونوں ممالک کی جانب سے ہو سکتی ہے یا کوئی تیسرا فریق دونوں ممالک کی رضامندی سے یہ کام سرانجام دے سکتاہے۔

تمام معاملات پر اس ماہر کا فیصلہ حتمی ہو گا اور فریقین کو اسی تسلیم کرنا پڑے گا۔

بنک کا کہنا ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر اس ماہر کی تعیناتی پر آنے والے اخراجات برداشت کرنے کے لیے ایک ٹرسٹ فنڈ بھی قائم کر سکتا ہے۔

عالمی بنک کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر یہ مسئلہ غیر جانبدار ماہر کے دائرہ کار میں نہیں آئے گا تو وہ مصالحتی عدالت کے قیام پر بھی غور کر سکتا ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ اس ڈیم کی تعمیر سے پاکستان کو ملنے والے پانی میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔

پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس ڈیم کی تعمیر 1960 کی سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے جبکہ بھارتی موقف یہ ہے کہ اس ڈیم کی تعمیر سے معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہوتی اور یہ ڈیم نہ تو پانی جمع کرے گا اور نہ ہی اس کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد