عالمی بنک کو پاکستان کا خط | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی بنک کا کہنا ہے کہ اسے بدھ کو پاکستانی حکومت کی جانب سے ایک خط موصول ہوا ہے جس میں ادارے سے بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں بگلیہار ڈیم کی تعمیر کے معاملے کو حل کرنے کے لیے ایک غیر جانبدار ماہر کی تقرری کی درخواست کی گئی ہے۔ عالمی بنک کا کہنا ہے کہ وہ اس درخواست کا جائزہ لے گا اور معاملات کو 1960 میں دونوں ممالک کے مابین ہونے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت حل کرنے کی کوشش کرے گا۔ بنک کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ اس معاہدے کی زیادہ تر شقوں پر عملدرآمد ہو چکا ہے لیکن کچھ معاملات ابھی باقی ہیں۔ ان میں سے ایک غیر جانبدار ماہر کی تقرری میں عالمی بنک کی جانب سے ادا کیے جانے والا کردار بھی ہے۔ بنک کا یہ بھی کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت ابتدائی طور پر معاملات نمٹانے کے لیے سندھ طاس کمیشن موجود ہے۔ عالمی بنک کا خیال ہے کہ اگر یہ معاملہ کمیشن میں تصفیے تک نہیں پہنچتا تو اسے ایک غیر جانبدار ماہر کے سپرد کیا جا سکتا ہے۔ اس ماہر کی تقرری یا تو دونوں ممالک کی جانب سے ہو سکتی ہے یا کوئی تیسرا فریق دونوں ممالک کی رضامندی سے یہ کام سرانجام دے سکتاہے۔ تمام معاملات پر اس ماہر کا فیصلہ حتمی ہو گا اور فریقین کو اسی تسلیم کرنا پڑے گا۔ بنک کا کہنا ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر اس ماہر کی تعیناتی پر آنے والے اخراجات برداشت کرنے کے لیے ایک ٹرسٹ فنڈ بھی قائم کر سکتا ہے۔ عالمی بنک کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر یہ مسئلہ غیر جانبدار ماہر کے دائرہ کار میں نہیں آئے گا تو وہ مصالحتی عدالت کے قیام پر بھی غور کر سکتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین جنوری کے آغاز میں اس متنازعہ ڈیم پر بات چیت ہوئی تھی جو کہ بے نتیجہ رہی تھی۔ بھارت نے کشمیر سے پاکستان میں داخل ہونے والے دریائے چناب پر بگلیہار ڈیم اور پن بجلی گھر تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس ڈیم کی تعمیر سے پاکستان کو ملنے والے پانی میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔ پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس ڈیم کی تعمیر 1960 کی سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے جبکہ بھارتی موقف یہ ہے کہ اس ڈیم کی تعمیر سے معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہوتی اور یہ ڈیم نہ تو پانی جمع کرے گا اور نہ ہی اس کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||