’سندھو ہمالیہ سےنہیں قراقرم سے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے دریاؤں میں سے ایک دریائے سندھ کا منبع پہلے کوئی اور تھا۔ سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق دریائے سندھ پہلے قراقرم کے پہاڑوں سے شروع ہوتا تھا نا کہ مغربی ہمالیہ سے جیسا کہ آج کل ہو رہا ہے۔ دریائے سندھ نے دنیا کی قدیم ترین انسانی تہذیب کو پانی فراہم کیا ہے۔ تبت سے نکلنے والے اس دریا کا پانی مغربی ہمالیہ سے ہوتا ہوا پانچ دریاوں کی شکل میں پنچاب میں سے گزرتا تھا۔ سائنسدانوں نے گزشتہ تین کروڑ سالوں میں بحیرہ عرب کی تہوں میں بیٹھ جانے والی مٹی کے تجزیے کے بعد اندازہ لگایا ہے کہ صرف پچاس لاکھ سال قبل دریائے سندھ کا منبع قراقرم کے پہاڑ تھے کیونکہ دریائے سندھ کے ذریعے سمندر میں آنے والے رسوب یا مٹی کی تہوں میں شامل معدنیات وہی ہیں جو قراقرم کے علاقے سے ملتی ہیں۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اسی دوران قشر ارض میں حرکات کے باعث پنجاب کے دریا مغرب کی جانب مڑ گئے تھے۔ | اسی بارے میں بڑا سیلابی ریلا سندھ میں داخل10 July, 2005 | پاکستان کشتی الٹنے سے چودہ ہلاک11 July, 2005 | پاکستان دریائے چناب میں سیلاب08 July, 2005 | پاکستان بگلیہار ڈیم پر سوئس ثالث مقرر11 May, 2005 | پاکستان ’پاکستان سوڈان بن سکتا ہے‘22 March, 2005 | پاکستان موہنجوڈارو‘ عالمی ورثہ کی تباہی01 March, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||