بڑا سیلابی ریلا سندھ میں داخل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک بڑے سیلابی ریلے کے سندھ میں داخل ہونے کے بعد دریائے سندھ میں سکھر کے مقام پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہورہی ہے اور فوج کو طلب کرلیاگیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ سولہ جولائی سے صورتحال تشویش ناک ہو سکتی ہے۔ گڈو کے مقام سے لیکر کوٹڑی ڈاؤن اسٹریم تک ایک سو سینتیس مقامات حساس قرار دیئےگئے ہیں۔ سکھر میں سادھ بیلو کے مقام پر فوجی جوانوں نے کیمپ قائم کرلیا ہے، دریا کے کنارے اطراف میں کشتیوں کے ذریعے پیٹرولنگ شروع کردی ہے۔ پولیس کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں۔ آرمی افسران لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے دریائے سندھ کے کنارے بندروال کے ساتھ رہائش پذیر لوگوں کو سیلاب سے متعلق ہدایات دے رہے ہیں اور ماہیگیر بھی فوج کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ فوج کی جانب سے رواں سال سکھر بیراج کی مرمت کے بعد پانی کا پہلا ریلا بیراج سےگذر رہا ہے۔ سیکریٹری آبپاشی اشفاق میمن نے جمعے کی شب پریس کانفرنس میں واضح کیا تھا کہ فی الحال فوج کو طلب نہیں کیا جا رہا ہے۔ ضرورت پڑنے پر فوج کو طلب کیا جا سکتا ہے۔تاہم پریس کانفرنس کے آٹھ گھنٹے بعد فوج نے دریا کے کنارے اپنا کیمپ قائم کر لیا ہے۔ سنیچر اوراتوار کی درمیانی شب کے دوران گڈو کے مقام پر اسی ہزار اور سکھر کے مقام پر چوہتر ہزار کیوسک پانی کا اضافہ ہوا ہے۔ سندھ میں اسی فیصد کچے کا علاقہ زیر آب آگیا ہے اور تقریبا ایک سو دیہات زیر آب آگئے ہیں۔ دریائے سندھ میں اگرچہ درمیانی درجے کا سیلاب ہے لیکن چند برسوں سے پانی کی قلت کی وجہ سے مختلف بند کمزور ہو چکے ہیں۔ قادرپور کے مقام پر لوپ بند کا کٹاؤ جاری ہے۔ گڈو بیراج کے انجنیئر جاوید میمن نے اتوار کےروز بتایا کہ بیراج پر اپ اسٹریم پانچ لاکھ بائیس ہزار چھ سو اور ڈاؤن اسٹریم چار لاکھ تیرانوے ہزار کیوسک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دائیں کنارے کے جے اسپر اور ایس ایم بند پر شدید دباؤ ہے۔ سندھ کے محکمہ آبپاشی کے وزیر نادر اکمل لغاری صورتحال سے مطمئن ہیں کیونکہ یہ درمیانی درجے کا سیلاب ہے۔ ہفتے کی رات بی بی سی اردو آن لائن سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ صورتحال کنٹرول میں ہے اور انتظامیہ نے ہر لحاظ سے مکمل تیاری کی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں سکھر بیراج سے بارہ لاکھ کیوسک پانی بھی گذرا ہے۔ ابھی تو پانچ لاکھ کیوسک سے بھی کم پانی ہے۔ نادر اکمل نے بتایا کہ دریائے سندھ پر حفاظتی پشتوں کے ایک سو سینتس حساس مقامات ہیں ان میں دس بہت زیادہ حساس مقامات کی نگرانی کی جارہی ہے۔ وہاں پتھر، بلڈوزر سمیت تمام سامان پہنچا دیاگیا ہے۔ سابق سیکریٹری آبپاشی ادریس راجپوت صوبائی وزیر کی رائے سے متفق نہیں ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ میں سپر فلڈ اور اونچے درجے کے سیلاب کے بجائے درمیانہ اور نچلے درجے کا سیلاب زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ پانی دریا کے موجودہ بہاؤ کے ساتھ چلتا ہے اور زیادہ رساؤ اور کٹاؤ کرتا ہے۔ یہ صورتحال حفاظتی پشتوں اور بندوں کے لئے خطرناک ہوتی ہے۔ دریا کے کچے کے علاقے میں لوگوں نے قانونی اور غیرقانونی زمینیں آباد کی ہوئی ہیں۔گذشتہ پانچ برس میں اس علاقے میں پانی نہیں آیا ہے۔ صوبائی وزیر آبپاشی نے بتایا کہ ہم نے لوگوں کو علاقے خالی کرنے کو کہا مگر انہوں نےپانچ لاکھ کیوسک پانی توگذرتے دیکھا ہے۔ لہٰذا پولیس کی مدد سے کچھ علاقے زبردستی خالی کرائے ہے۔ اپر سندھ کے پانی کے معاملات پر گہری نظر رکھنے والے صحافی ممتاز بخاری کا کہنا ہے کہ اس وقت گڈو بیراج کے اپ اسٹریم میں پانچ لاکھ کیوسک کے قریب پانی موجود ہے۔ جبکہ سکھر کے مقام پر ساڑھے تین لاکھ کیوسک پانی موجود ہے۔ اس وقت قادرپور، ایس ایم بند، مڈ بند اور سکھر بندر وال کو نقصان پہنچا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||