سرحد میں دریائے کابل میں طغیانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں حکام کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دریاے کابل اور سوات میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کئی مقامات پر سیلاب نے مکانات اور کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچایا ہے تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع ابھی نہیں ملی ہے۔ اس سلسلے میں انسانی آبادی کے متاثر ہونے کی پہلی اطلاع چارسدہ روڈ پر خان پور اور نیلاوے دیہات سے ملی ہے جہاں فوج نے سیلاب میں گھرے تقریبا ڈیڑھ سو افراد کو کشتیوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔ یہاں حکام کے مطابق ایک درجن سے زائد مکانات پانی میں بہہ چکے ہیں۔ پشاور میں ریلیف سیل کے ڈپٹی سیکٹری غلام جیلانی نے بتایا کہ ضلع چارسدہ اور پشاور میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ ان کے مطابق شاہ عالم کے مقام پر حاجی زئی کے علاقے میں دو مکانات سیلابی پانی کی نظر ہوگئے ہیں۔ ضلع نوشہرہ میں بھی حکام کے مطابق سیلابی صورتحال خراب ہو رہی ہے لیکن وہ ابھی خطرناک حد تک نہیں پہنچی ہے۔ تاہم علاقے میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور کسی بھی صورتحال سے نمٹے کے لئے فوج کو تیار رہنے کا حکم بھی دے دیا گیا ہے۔ نوشہرہ کلاں میں دریاے کابل کناروں سے نکل کر تقریبا پانچ سو میٹر علاقے میں پھیل گیا ہے اور رہائشی علاقوں اور زرعی اراضی کو متاثر کر رہا ہے۔ ادھر دریاوں پر نظر رکھے ہوئے محکمہ آبپاشی میں قائم فلڈ ایمرجنسی سیل کے عبدالولی یوسفزئی نے بتایا کہ ورسک کے مقام پر دریاے کابل اونچے درجے کے سیلاب میں تبدیل ہوگیا ہے جہاں اس وقت ایک لاکھ کیوسک سے زائد پانی بہہ رہا ہے۔ حکام نے دریاے کابل اور سوات میں طغیانی کے خدشے کے پیش نظر نوشہرہ، مردان اور چارسدہ میں اس کے کنارے آباد افراد کو علاقہ خالی کرنے کا پہلے ہی حکم دے رکھا ہے۔ پشاور میں ڈسٹرکٹ کونسل نے اپنے آج ایک اجلاس میں حاجی زئی اور ناگمان کے متاثرہ علاقوں کے لئے پندرہ لاکھ روپے مختص کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے دو ماہ قبل ہی سیلاب سے بچنے کے لئے تیاریاں شروع کر دی تھیں۔ اس سلسلے میں تمام ضلعی حکومتوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ دریا کے راستے میں بنے غیرقانونی مکانات اور آبادی کو ہٹانے کا انتظام کرے، نالوں کو صاف اور حفاظتی پُشتوں کو مضبوط کیا جائے۔ اس سال موسم سرما میں غیرمعمولی بارشوں اور برف باری نے پہلے ہی سیلاب کے خدشات بڑھا دیے تھے۔ لیکن ماہرین کے مطابق اس ماہ کے اوائل سے گرمی کی جو شدت چل رہی ہے اگر اسی طرح برقرار رہی تو صورتحال یقینا خطرناک حد تک جلد پہنچ جائے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||