صوبہ سرحد میں طغیانی کا خدشہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں حکام نے دریائے کابل اور سوات میں طغیانی کے خدشے کے پیش نظر نوشہرہ، مردان اور چارسدہ میں دریا کے کنارے آباد افراد کو علاقہ خالی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ پشاور میں محکمۂ آبپاشی میں قائم فلڈ ایمرجنسی سیل کے ترجمان عبدالولی یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ دریائے کابل کی صورتحال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق وہ دریاوں پر خصوصی نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس دریا میں منگل کی صبع سے پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ آخری اطلاع تک اس دریا میں چوراسی ہزار کیوسک پانی بہہ رہا ہے جوکہ درمیانے درجے کے سیلاب کی آخری حد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عموماً وہ ایک لاکھ کیوسک تک پانی کو درمیانے درجے کے سیلاب کی آخری حد مانا جاتا ہے۔ دریائے کابل کے علاوہ دریائے سوات میں امان درہ اور منڈا کے مقامات پر پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سے قبل انیس سوساٹھ میں دریائے کابل میں ایک سیلاب آیا تھا جس نے کافی تباہی مچائی تھی۔ اس وقت اس دریا میں پانی کی سطح ایک لاکھ انیس ہزار کیوسک تک پہنچ گئی تھی۔ عبدالولی یوسفزئی نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں کی انتظامیہ کو یہ خبر دے دی گئی ہے کہ وہ انیس سو ساٹھ میں متاثر ہونے والے علاقوں تک کو خبردار کر دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ چھ برسوں میں خشک سالی کی وجہ سے کافی لوگ دریا کے خشک حصے تک آباد ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے صورتحال مزید ہنگامی اقدامات کا تقاضہ کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ان لوگوں کو زیادہ خطرہ ہے۔ صوبائی حکومت نے کل رات ہی متعلقہ علاقوں کے حکام کو پیغامات ارسال کر دیے ہیں۔ علاقے میں مساجد اور مقامی پولیس نے اپنے طور پر اعلانات کیے ہیں اور لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔ اس سال موسم سرما میں غیرمعمولی بارشوں اور برف باری نے پہلے ہی سیلاب کے خدشات بڑھا دیے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||