BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 08 July, 2005, 12:54 GMT 17:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دریائے چناب میں سیلاب

سیلاب
بہت سے دیہات خالی کرلیے گئے ہیں
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں دریائے چناب کے دونوں اطراف بسے کئی دیہات سیلاب کی وجہ سے زیر آب آ گئے ہیں اور سول انتظامیہ اور فوج نے بڑے پیمانے پر لوگوں کو متاثرہ علاقوں سے نکالنے کا کام شروع کر دیا ہے۔

گو اس سیلاب سے فصلوں، املاک اور مویشیوں کو نقصان ہوا ہے مگر ابھی تک کہیں سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

دریائے چناب میں جمعرات کو بھارت کی طرف سے پانچ لاکھ کیوسک سے زائد پانی چھوڑے جانے کے بعد پنجاب کے بڑے شہروں سیالکوٹ، گجرات، گوجرانوالہ، منڈی بہاؤالدین، وزیر آباد، حافظ آباد، جھنگ اور سرگودھا کے اطراف میں دریائے چناب کے دونوں جانب گاؤں میں لوگوں کو دریا میں اونچے درجے کے سیلاب کے خطرے کے پیش نظر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لیے کہا گیا تھا۔

اس سلسلے میں پاکستانی فوج نے پانچ ہیلی کاپٹروں اور ایک ہزار سے زائد فوجیوں کی مدد سے لوگوں کو علاقے سے بحفاظت نکالنے کا کام شروع کر دیا ہے۔

فیڈرل فلڈ کمیشن کے ایک عہدیدار احمد کمال کا کہنا ہے کہ اس سیلاب کے باعث پندرہ سے زائد گاؤں زیر آب آئے ہیں جہاں سے اب تک آٹھ سو سے زائد لوگوں کو بحفاظت نکالا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق کم از کم پانچ ہزار سے زائد لوگ ابھی تک ان زیر آب گاوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

تاہم آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ زیر آب آنے والے دیہاتوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔

ادھر فوج کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ قادرآباد اور حافظ آباد کے درمیان شاہراہ پر واقع شادیاں گاؤں سے کم از کم پانچ سو افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ فوج اور سول انتظامیہ سیلاب سے متاثرہ افراد کو دوائیاں اور خوراک فراہم کر رہی ہے۔

چناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام سے پانی کا بڑا ریلا گزر چکا ہے جس کے بعد حکام کا کہنا ہے کہ کسی بڑے نقصان کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ حکام کے مطابق اب ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح کافی نیچے آچکی ہے جبکہ خانکی اور قادرآباد میں پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے اور وہاں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

خانکی کے مقام پر پانی کا گزر تین لاکھ اڑسٹھ ہزار کیوسک جبکہ قادرآباد میں پانی کا گزر تین لاکھ سینتالیس ہزار کیوسک ہے۔

دریائے سندھ میں چشمہ کے مقام پر پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے اور وہاں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔

دریائے راوی میں پانی کی سطح بھی بلند ہو رہی ہے مگر فی الحال وہاں سیلاب کا خطرہ نہیں ہے۔

ادھر صوبہ سرحد میں دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر اور دریائے سوات میں منڈا کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کی سطح گر رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد