BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 08 July, 2005, 02:16 GMT 07:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ژوب: ہیضے سے بائیس ہلاک

News image
ژوب کوئٹہ سے تین سو دس کلومیٹر دور شمال مشرق میں واقع ہے
صوبہ بلوچستان کے شہر ژوب میں گیسٹرو یا ہیضے کی وبا سے مزید چار افراد کے ہلاک ہونے سے مرنے والے افراد کی تعداد بائیس ہو گئی ہے جبکہ چار سو افراد کو مختلف ہسپتالوں میں داخل کر دیا گیا ہے۔

بعض اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد پچیس تک ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ژوب میں محکمہ صحت کے ضلعی افسر ڈاکٹر عبدالرحیم شیرانی نے کہا ہے دور دراز کے علاقوں میں ہلاکتیں ہوئی ہیں اور انھیں اس بارے میں اطلاعات موصول ہوئی ہیں لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو رہی۔

ژوب کے سرکاری اور غیر سرکاری ہسپتالوں میں آج اڑھائی سو مریض داخل کیے گئے ہیں جبکہ ڈیڑھ س مریض پہلے سے داخل تھے۔ اس نئی صورتحال سے ہسپتالوں میں بستر اور ادویات کم پڑ گئے ہیں اور مریض برآمدوں اور کھلے میدانوں میں ٹینٹ کے نیچے زمین پر لیٹے ہوئے ہیں جنھیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ ان مریضوں میں بیشتر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

ادویات کی کمی سے لوگوں کو مشکلات درپیش ہیں اس لیے کئی مریضوں کو دوسرے شہروں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

ضلع ژوب کے صحت کے محکمے کے افسر ڈاکٹر عبدالرحیم نے کہا ہے کہ یہ وبا پانی میں ملاوٹ کی وجہ سے پھیلی ہے جس سے کم سے کم چھ سو افراد گزشتہ ڈیڑھ ہفتے میں متاثر ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ زیادہ تر ہلاکتیں گزشتہ تین دنوں میں ہوئی ہیں۔ ان میں چھ ہلاکتیں ژوب ہسپتال اور باقی مضافاتی علاقوں میں ہوئی ہیں۔

ڈاکٹر عبدالرحیم نے کہا ہے کہ ہیضے کی یہ وبا شہر سے چند کلومیٹر دور ایک دیہات سے شروع ہوئی جہاں زیادہ تر لوگ پہاڑوں سے انے والا سیلابی پانی یا گڑھوں میں کھڑا پانی پیتے ہیں۔ اس دیہات میں زیادہ تر افغان پناہ گزین رہتے ہیں جنہیں ادویات تو فراہم کر دی گئی تھیں لیکن اس کے باوجود یہ بیماری پورے شہر میں پھیل گئی ہے۔

ڈاکٹر عبدالرحیم نے کہا ہے کہ کوئٹہ سے آٹھ لاکھ روپے کی ادویات لائی گئی ہیں جو تقسیم کر دی گئی ہیں۔

صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے کہا ہے کہ پانی کی آلودگی کے بارے میں تحقیقات ہو رہی ہیں اور یہ خدشہ ہے کہ وبا کے پھیلنے میں حکام کی غفلت شامل ہو۔ اس بارے میں اب انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ تمام ضروری اقدامات کریں تاکہ صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔

پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں نے اس بگڑتی ہوئی
صورتحال پر جمعہ کو احتجاجی مظاہرے بھی کیے ہیں۔ مقامی قائدین اور کارکنوں نےصورتحال پر قابو پانے کی ذمہ داری حکومت پر ڈالی ہے اور کہا ہے کہ حکومت اس بارے میں فوری طور پر ضروری اقدامات کرے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد