BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 June, 2005, 23:55 GMT 04:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہیضہ: مرنے والوں کی تعداد بڑھ گئی

ہیضے کی وبا
انتظامیہ قصور پورہ کے رہائشیوں کو ٹینکروں کے ذریعے پانی فراہم کر رہی ہے
حکام کا کہنا ہے کہ لاہور کے علاقے قصور پورہ، راوی روڈ میں آلودہ پانی کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر دس ہوگئی ہے لیکن آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اس علاقے سے اسہال اور قے کی بیماری میں مبتلا لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے اور اب تک اڑھائی ہزار افراد مقامی ہسپتالوں اور علاقے میں لگائے گئے خصوصی کیمپوں میں زیر علاج ہیں جن میں کئی ایک کی حالت اب بھی نازک ہے اور مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

تین روز پہلے اس علاقے میں پانچ افراد کی ہلاکت سے موت کا یہ خونی سلسلہ شروع ہوا تھا۔

لاہور کے پولیس سٹیشن شفیق آباد کے سٹیشن ہاؤس آفیسر انسپکٹر ذوالفقار بٹ نے بتایا کہ جمعرات کو مزید دو افراد انور اور حشمت بی بی ہلاک ہوئے ہیں اور مرنے والوں کی تعداد اب دس ہوگئی ہے۔

اس وبا کے پھوٹنے کی وجہ سرکاری نلکوں میں آنے والا آلودہ پانی بتایا جاتاہے۔ مکینوں کا کہنا ہےکہ ان کے گھروں میں جو سرکاری پانی فراہم کیا جاتا ہے اس میں سے کئی روز سے گٹر یعنی سیوریج کے غلیظ پانی کی آمیزیش ہو رہی تھی اور انتہائی بدبو والا رنگ دار پانی نلکوں میں آرہا تھا۔

بتایا گیا ہے کہ زیر زمین پینے کے صاف پانی اور سیوریج کے پائپ لیک ہوکر آپس میں مل چکے ہیں جس سے پانی آلودہ ہورہا ہے۔

مسلم لیگ کی ایک مقامی رہنما راحت افزا نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے کئی بار مقامی لوگوں کو ساتھ لے جاکر پانی اور سیورج فراہم کرنے والے ادارے واسا کے حکام کو شکائت کی تھی لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی جس کا نتیجہ اس خوفناک وبا کی صورت میں نکلا ہے۔

علاقے کے لوگ تین روز سے احتجاجی مظاہرے بھی کر رہے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان افراد کو ہیضہ ہواہے اور اگر فوری علاج نہ ہو تو مریض پانی کی کمی کی وجہ سے چند گھنٹوں میں بھی دم توڑ سکتا ہے۔

ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت نے علاقے میں ہنگامی طبی کیمپ بھی قائم کر رکھے ہیں اور لوگوں کو ٹینکروں کے ذریعے صاف پانی فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ لیکن پانی کی فراہمی ضروریات کے لحاظ سے نہ ہونے کے برابر ہے۔

علاقے میں خوف وہراس کی فضا پائی جارہی ہےآٹھ ہزار گھرانوں پر مشتمل اس علاقے سے لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں اور کئی ایسے مکانات نظر آۓ جن کے مرکزی دروازوں پر لگے تالے انتظامیہ کی نااہلی کا منہ چڑا رہے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ لاہور میں کم از کم آٹھ سو فٹ بور (سوراخ) کرکے پانی لیا جاۓ تو صاف پانی مل سکتا ہے لیکن قصور پورہ سمیت لاہور کے بیشتر علاقوں میں پانی صرف ساڑھے تین سو فٹ نیچے سے لیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ لاہور اور پنجاب کے دوسرے شہروں میں زیر زمین بچھے پائپ لائنوں کی مدت پوری ہوچکی ہے اور ان کے زیر زمین پھٹ جانے کی شکایات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ادھر جنوبی پنجاب کے ایک شہر رحیم یار خان میں بھی اسی نوعیت کی وبا پھیل گئی ہے اور دو ہفتوں کے دوران نو بچوں سمیت سولہ افراد جاں بحق ہونے کی اطلاعات ملی ہیں لیکن شیخ زائد ہسپتال رحیم یار خان کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے صرف گیارہ اموات کی تصدیق کی ہے۔

رحیم یار خان میں ڈھائی ہزار کے قریب مریضوں کو مختلف ہسپتالوں میں داخل کیا گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد