BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 30 May, 2005, 10:58 GMT 15:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چناب، جہلم اور اب راوی پر جھگڑا

دریا
پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں پر تنازعات بڑھ رہے ہیں۔
دریاؤں کے پانی کے تنازعات پر بات چیت کے لیے پاکستانی ماہرین کا سات رکنی وفد بھارت پہنچ گیا۔

بات چیت میں کشن گنگا ڈیم پر بحث کے علاوہ پاکستان دریائے راوی پر بننے والے دو ایسے بندوں پر اعتراضات اٹھائے گا جو بھارت نے تین سال پہلے ہی بنائے ہیں۔

نئی دہلی میں منگل کو دونوں ممالک کے درمیان سندھ طاس کا سالانہ اجلاس ہوگا جس میں سندھ طاس کی سالانہ رپورٹ کو حتمی شکل دیکر دنوں حکومتوں کو بھجوادیا جائے گا اس سالانہ اجلاس میں آئندہ سال کےدوران مختلف مقامات کی انسپکشن کی تعداد طے کی جائیں گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سال زیادہ برفباری کی وجہ سے دریاؤں میں طغیانی کی خطرہ ہے اور یہ معاملہ بھی دونوں ملکوں کے درمیان زیر بحث ہوگا۔

پاکستانی وفد کے سربراہ کمشنر سندھ طاس جماعت علی شاہ نے روانگی سے پہلے بی بی سی اردو سروس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’ پاکستان مون سون کے موسم کی پیشگی فلڈ رپورٹ ابھی سے مانگ لے گا‘

پاکستان اس رپورٹ کی بنیادپر سیلا ب سے بچاؤ کے اقدامات کرنا چاہتا ہے۔ ‘
جماعت علی شاہ نے کہا ’بھارت سے دریا راوی پر ان دو باندھے گئے ان دو بندوں یا سیلابی پشتوں کی تعمیر پر بھی اعتراض اٹھایا جائے گاجو اس نے سن دوہزار ایک میں مشرقی پنجاب میں تعمیر کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت دریاؤں پر کوئی بھی تعمیر دوسرے ملک کے علم میں لائے بغیر نہیں کی جاسکتی۔‘

پاکستانی وفد کے دورے کےدوران کشن گنگا ڈیم پر تین روزہ فنی بحث کا آغاز یکم جون سے ہو جائے گا۔

پاکستان نے مئی کے پہلے ہفتے میں ہونے والے دو فریقی مذاکرات میں کشن گنگا ڈیم پر جو اعتراضات اٹھاۓ تھے ان پر بھارتی موقف سامنے آئے گا۔

دونوں ممالک نے طے کر رکھا ہے کہ یہ تنازعہ پندرہ جولائی تک حل کر لیا جائےگا۔

جماعت علی شاہ نے کہا ہےکہ حالیہ اجلاس میں ہونے والی پیش رفت سے اگر پاکستان مطمئن نہیں ہوا تو وہ پندرہ جولائی کی ڈیڈ لائن سے قبل بھی ثالثی کے لیے عالمی بنک سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔

اس سے پہلے بھارت کے ایک دوسرے ڈیم بگلہیار پر پاکستان کے اعتراض پر ورلڈ بنک نے ثالثی کے لیے اپنے نمائندے کاتقرر کر رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کشن گنگا ڈیم کے معائنے کے لیے بھارت کو کہہ چکا ہے اور بھارت پاکستانی ماہرین کو اس ڈیم کی سائٹ پر لے جانے کے لیے پابند ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پروگرام کے مطابق جون کے اختتام تک یا جولائی کے پہلے ہفتے میں پاکستانی ماہرین بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع بارہ مولا جائیں گےجہاں پر دریائے نیلم پر کشن گنگا ڈیم زیر تعمیر ہے۔‘

ساٹھ کی دہائی میں دنوں ملکوں کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے لیے ایک معاہدہ ہوا تھا جس میں تین دریاؤں کاپانی بھارت کو دیدیا گیا تھا جبکہ جہلم سندھ اور چناب کے پانی پر پاکستان کا حق تسلیم کر لیا گیا تھا اور پانی کی تقسیم کے قواعد وضوابط بنا دئیے گئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد