’بگھلیار ڈیم پر ماہر پندرہ روز میں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی بینک کے صدر جیمز ڈی وولفینسن نے کہا ہے کہ تقریباً آئندہ دو ہفتوں کے اندر بگھلیار ڈیم کے معاملے پر غیرجانبدار ماہر مقرر کردیا جائے گا۔ وولفینسن نے پاکستان کے دو روزہ دورے کے بعد اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران بگھلیار ڈیم کے تنازعے کے بارے میں ماہر کی رپورٹ مرتب کرنے کے متعلق کوئی نظام الاوقات تو نہیں دیا البتہ اتنا کہا ہے کہ بینک اس معاملے میں تاخیر نہیں کرے گا اور مقرر کردہ ماہر جلد سے جلد اپنی رپورٹ دے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ فریقین ماہر کی رپورٹ دریائے چناب پر بھارت ’بغلیار ڈیم‘ تعمیر کر رہا ہے جس پر پاکستان نے اعتراضات اٹھائے ہیں کہ بھارت دونوں ممالک کے درمیان کیے گئے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ پاکستان اور بھارت دوطرفہ طور پر ہونے والی کئی ملاقاتوں میں جب ایک دوسرے کے موقف سے متفق نہیں ہوئے تو پاکستان نے عالمی بینک سے رجوع کیا۔ کیونکہ معاہدے کے مطابق بھارت اور پاکستان میں کسی نکتہ پر اختلافات کی صورت میں فریقین کے رضامند ہونے کے بعد عالمی بینک غیر جانبدار ماہر کا تقرر کرتا ہے۔ پاکستان کا موقف رہا ہے کہ معاہدے کے مطابق عالمی بینک ضامن ہے۔ لیکن اس ضمن میں جیمز ڈی وولفینسن نے واضح کیا کہ عالمی بینک کی گارنٹی اتنی ہے کہ قواعد وضوابط پر عمل ہو۔ عالمی بینک کے صدر نے اپنے دو روزہ دورے کے دوران صدر جنرل پرویز مشرف، وزیراعظم شوکت عزیز اور اقتصادی ماہرین سے ملاقاتیں کیں۔ انہیں صدر پاکستان نے ’ہلال پاکستان‘ کا اعزاز بھی دیا۔ پریس کانفرنس میں جب ان سے بگھلیار ڈیم کے بارے میں کئی سوالات کیے گئے تو انہیں کہنا پڑا کہ وہ اپنا موقف بیان کر چکے ہیں اور اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ان سے اپنی مرضی کی بات اگلوا لیں گے تو ایسا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے صدر جنر پرویز مشرف کی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں اور اصلاحات کی تعریف کی اور کہا کہ ان سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ بدعنوانی کے متعلق انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اس کے خاتمے یا کم کرنے میں سنجیدہ دکھائی دے رہی ہے۔ بینک کے صدر نے بتایا کہ عالمی بینک نے پاکستان کے لیے تین ارب ڈالر کا قرض بھی منظور کیا ہے جو سماجی ترقی کے لیے خرچ ہوگا۔ ان کے مطابق یہ رقم پاکستان کو تین برسوں میں ایک ارب ڈالر سالانہ کے حساب سے جاری ہوگی۔ انہوں نے پنجاب حکومت کی جانب سے مفت تعلیم کی فراہمی کے پروگرام کی بھی تعریف کی اور خواہش ظاہر کی کہ دوسرے صوبوں کو بھی ایسا کرنا چاہیے تاکہ غربت میں کمی لائی جاسکے۔ ایک سوال کے جواب میں جیمز ڈی وولفینسن نے کہا کہ انہوں نے پاکستانی حکام سے پانی کے نظام کے متعلق عمومی نوعیت کی بات کی ہے اور کسی مخصوص بڑے ڈیم کے متعلق بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ بینک نے پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ پانی کی تقسیم کے موجودہ نظام کو بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں تیس فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے ۔ پاکستان کے لیے اہم چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے تعلیمی معیار کو بہتر کرنے اور خواتین کو بااختیار بنانے پر زور دیا۔ ان کے مطابق اس سے غربت میں بھی خاطر خواہ کمی لائی جاسکے گی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ایک تاثر ہے کہ سویلین اداروں میں فوجی افسران کے تقرر سے کارکردگی متاثر ہوئی ہے تو انہوں نے مسکرا کر جواب ٹال دیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||