BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 December, 2003, 07:27 GMT 12:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھگلیار ڈیم، بھارت کو نوٹس

بھگیار ڈیم پر تنازع گزشتہ کئی سال سے چل رہا ہے
بھگیار ڈیم پر تنازع گزشتہ کئی سال سے چل رہا ہے

حکومت پاکستان نے باضابطہ طور پرحکومت ہندوستان کو نوٹس بھیجا ہے کہ وہ دسمبر اکتیس تک ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر ریاست میں دریاے چناب پر بناۓ جانے والے بھگلیار ڈیم کا تنازع حل کرے۔

پاکستان نے ہندوستان کو پہلانوٹس اس سال اگست میں دیا تھا جس کے بعد پاکستان کے آبپاشی کے ماہرین کے ایک تین رکنی گروپ نے اکیس اکتوبر کو متنازعہ ڈیم کا معائنہ کیا تھا۔

اس گروپ کی قیادت پاکستان میں انڈس واٹر کمیشن کے سربراہ جماعت علی شاہ نے کی اور اس میں دو ماہرین اظہارالحق اور بشیر احمد بھی شامل تھے۔

چالیس ارب ہندوستانی روپے کی لاگت سے جموں کے ضلع ڈوڈا میں زیر تعمیر اس ڈیم سے نو میگاواٹ بجلی پیدا کیے جانے کا منصوبہ ہے۔ جموں و کشمیر ریاست اس پر اب تک چودہ ارب روپے خرچ کرچکی ہے۔

انیس سو ستانوے سے اس پراجیکٹ پر کام شرو ع ہورہا تھا تب سے پاکستان حکومت نے اس پر تحفظات کااظہار کرتی آ رہی تھی اور اس کےمعائنہ کے لیےہندوستان حکومت سے اجازت مانگ رہی تھی۔ دو ماہ پہلے حکومتِ ہندوستان نے پاکستانی ماہرین کی ایک ٹیم کو اس منصوبے کے معائنے کی اجازت دی تھی۔

اس وفد نے پاکستان کے ان خدشات کی تصدیق کی تھی کہ ہندوستان یہ ڈیم انیس سو ساٹھ کے معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوۓ بنا رہا ہے۔ اس وفد نے حکومت ہندوستان کو پاکستان کے ڈیم پر اعتراضات اور تحفظات سے آگاہ کیا تھا۔

اب دوسرا نوٹس پچھلے ہفتے پاکستان کے دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں ہندوستان کے ہائی کمیشن کے ذریعے بھیجا ہے جس کے بعد اس معاملہ پر انڈس واٹر کمیشن کی سطح پر ہونے والی بات چیت اب دونوں حکومتوں کی سطح پر ہوگی۔

پاکستان نے ہندوستان کو کہا کہ وہ اس ڈیم کی تعمیر کا کام روک دے اور اکتیس دسمبر تک اس معاملہ کو انیس سو ساٹھ کے سندھ تاس معاہدہ (انڈس واٹر ٹریٹی) کے تحت حل کرے۔

اگر ہندوستان اکتیس دسمبر تک اس نوٹس کا جواب نہیں دیتا تو پاکستان اگلے قدم کے طور پر علمی بنک سے رجوع کرسکتا ہے کہ وہ غیر جانبدار ماہرین کا تقرر کرے جو اس معاملہ کا جائزہ لے کر اس کو حل کروائیں۔

عالمی بنک انیس سو ساٹھ میں دونوں ملکوں کے درمیان دریاؤ کی پانی کی تقسیم کے معاہدہ انڈس واٹر ٹریٹی میں ضامن ہے۔ ا س معاہدہ کے تحت راوی، ستلج اور بیاس کے پانی پر ہندوستان کا حق اور چناب، جہلم ور سندھ پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا تھا۔

سندھ تاس معاہدہ کے تحت کوئی ملک کسی ایسے دریا پر کوئی ایسا پراجیکٹ یا ڈیم نہیں بنا سکتا جس سے دوسرے ملک کو دیے جانے والے دریا کے پانی کا آمادانہ بہاؤ رک جاۓ۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد