بلوچستان: بارشوں سے دس ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے کم سے کم دس افراد ہلاک اور تئیس زخمی ہوئے ہیں۔ مکران ڈویژن میں کئی دیہات زیر آب آگئے ہیں اور سینکڑوں مکانات منہدم ہوئے ہیں۔ کوئٹہ سے کوئی ایک سو کلومیٹر جنوب میں مستونگ کے علاقے میں ایک مکان کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے پانچ افرادہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں میاں بیوی اور تین بچے شامل ہیں جبکہ تین بچے زخمی ہوئے ہیں۔ صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے کہا ہے صوبے کے دیگر علاقوں سے ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس کے مطابق تفتان میں دو اور سبی مچھ اور کلی بوستان میں ایک ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔ اسی طرح بلوچستان کے شمالی علاقوں قلعہ عبداللہ چمن، کلی بوستانت، کلی گلت کاریزات اور دیگر علاقوں میں سات سو مکانات منہدم ہوگئے ہیں۔ ادھر گوادر اور تربت میں سیلاب سے کئی علاقے زیر آب آئے ہیں اور کئی مکانات گر گئے ہیں۔ نیشنل پارٹی کے سینیٹر اسلم بلیدی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے جنرل سیکرٹری حبیب جالب ایڈووکیٹ نے امدادی سرگرمیاں نہ ہونے پر شدید غصے کا اظہار کیا ہے۔ اسلم بلیدی نے کہا ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کر رہے تھے کے سیلاب میں پھنس گئے۔ ایک ہی ہیلی کاپٹر تھا جو صرف اور صرف سیلاب میں پھنسے ان فوجیوں اور نیم فوجی دستے کے اہلکاروں کی مدد کر رہا تھا جو آ کڑہ کور ڈیم ٹوٹنے سے سیلاب میں پھنس گئے تھے۔ اسلم بلیدی نے کہا کہ سیلاب کے سلسلے میں حکومت اور فوج کی امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے صرف تشہیر کی گئی۔ حبیب جالب نے کہا ہے کہ کئی افراد سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں۔ لوگوں نے درختوں اور ٹیلوں پر پناہ لے رکھی ہےلیکن حکومت کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔ صوبائی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ محدود وسائل میں لوگوں کی مدد کی جا رہی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے امداد کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ وفاق مدد کر رہا ہے۔ تاہم امدادی اشیاء اور امداد کی مالیت کے بارے میں انہوں نے تفصیل فراہم نہیں کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||