BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 February, 2005, 21:26 GMT 02:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان:اشیائے زندگی کی قلت

 بلوچستان
بلوچستان کے اثر علاقوں تک رسائی نا ممکن ہو چکی ہے اور بارشوں سے بیماریاں پھیلنے لگی ہیں
بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں خوراک کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے اور کئی لوگ مخلتف بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ صوبائی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے متاثرین کی ہر ممکن مدد کی جا رہی ہے۔ ادھر پسنی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق بیلار ڈیم ٹوٹ گیا ہے جس سے کئی دیہات زیر آب آگئے ہیں۔

مکران ڈویژن کے شہر پسنی اور تربت سے ٹیلیفون پر لوگوں نے بتایا ہے کے ان کے علاقوں میں خوارک کا ذخیرہ ختم ہو گیا ہے۔ تربت سے ڈاکٹر رزاق نے کہا ہے کہ ان کے علاقے میں صرف منگل تک کی خوراک موجود ہے اس کے علاوہ سرکاری سطح پر ان کے علاقے میں کوئی امداد فراہم نہیں کی جارہی۔ سالاچ کے علاقے میں پانچ سو سے زیادہ لوگ رہتے ہیں جن کے لیے ہیلی کاپٹر سے صرف چار تھیلے خوراک کے پھینکے گئے ہیں۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بلوچستان کے ان علاقوں میں عام دنوں میں خوراک اور ضروریات زندگی کی دیگر اشیاء ایران سے آتی ہیں یہاں تک کہ ان علاقوں میں بجلی بھی ایران سے آتی ہے ۔

صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے کہا ہے بلوچستان میں سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ افراد کی تعداد لگ بھگ پچیس ہزار تک ہے۔ ان تمام لوگوں تک ایسے موسمی حالات میں پہنچنا مشکل ہے لیکن حکومت اپنی طرف سے بھر پور کوششیں کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ حالیہ بارشوں سے بلوچستان میں کئی چھوٹے بڑے ڈّیم ٹوٹ گئے ہیں۔

کوئٹہ میں آج فرنٹیئر کور کے لیفٹیننٹ کرنل نعیم نے کہا ہے کہ نیم فوجی دستوں کے کوئی پانچ ہزار جوان سیلاب زدگان کی مدد کر رہے ہیں اور اب وہاں متاثرین کےلیے خوراک ادویات کمبل اور دیگر سامان مہیا کیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ شمالی بلوچستان کے علاقے توبہ کاکڑی، توبہ اچکزئی، زیارت ہرنائی اور خانو زئی کے علاقوں میں مسلسل بارش اور برف باری کے باعث راستے بند پڑے ہیں اکثر دیہاتوں میں خوراک کی قلت پیدا ہو گئی ہے اور لوگوں میں بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ رازق بگٹی نے کہا ہے کہ ان علاقوں میں کوئی اڑھائی ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد