موہنجوڈارو‘ عالمی ورثہ کی تباہی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہاں بڑے بڑے مندر ہیں نہ شاہی مقبرے اور نہ ہی کوئی لڑائی کا ہتھیار برآمد ہوا ہے- یہ وادی مہران میں واقع عالمی ثقافتی ورثہ ہے جو موہنجوڈارو کے نام سے مشہور ہے- یہاں صرف خوبصورت شہری منصوبہ بندی، اعلیٰ ثقافت اور خوشحال معاشی زندگی کے ثبوت ملے ہیں- تاہم دنیا کی اس قدیم تہذیب کے آثار اب تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ صوبہ سندھ میں لاڑکانہ کے مقام پر دریائے سندھ کے دائیں کنارے واقع موہنجوڈارو کی فرسٹ سٹریٹ کی دیوار فروری کے تیسری ہفتے میں صدیوں کا بوجھ اٹھا کر گرگئی- جب کہ اس سے منسلک دوسری دیوار بھی بہت کمزور ہو چکی ہے جو کسی بھی وقت گر سکتی ہے- موہنجوڈارو کے کیوریٹر کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعلقہ حکام کواس صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے- موہنجوڈارو میں سیم اور تھور کو ختم کرنے کے لئے لگائے گئے چھبیس ٹیوب ویل گزشتہ کئی برس سے بند پڑے ہیں جس کی وجہ سے زیرِزمین پانی کی سطح بڑھ گئی ہے اور اس نے عالمی ورثے کو مزید خراب کر دیا ہے- گزشتہ برس ہونے والی موسلا دھار بارشوں کے دوران موہنجوڈارو اسمبلی ہال کے ستونوں اور گریٹ باتھ کو بھی نقصان پہنچا تھا- اور اسٹوپا کا بلاک 6 ڈی کا ایک حصہ بھی اسی طرح سے متاثر ہوا تھا اور کئی مقامات پر گڑھے پڑ گئے تھے- لیکن متعلقہ محکموں نے اتنی بڑی تباہی کے باوجود کوئی خصوصی پروگرام نہیں شروع کیا ہے- موہنجوڈارو کا ’ڈی کے ایریا‘ وادی مہران کے قدیم تہذیبی مقامات میں سب سے قیمتی سمجھا جاتا ہے- اب اس کی دیوار کی جگہ زمین پر اینٹیں بکھری ہوئی ہیں-
دو سال قبل چیف انجنیئر آرکیالوجی موہن لال نے موموہنجوڈارو کا سروے کیا تھا اور اپنی رپورٹ میں ترانوے ایسی جگہوں کی نشاندہی کی تھی جو بری طرح سے سیم اور تھور کی زد میں ہیں- رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ بارش ہونے کی صورت میں دیواروں کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے- اس رپورٹ کے بعد پانچ ایسی دیواریں گر چکی ہیں- انیس سو بائیس میں دریافت ہونے والے یہ آثار زیرِزمین پانی کی وجہ سے سیم اور تھور کی زد میں ہیں- اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے انیس سو اسی میں موہنجوڈارو کو عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا تھا اور دنیا کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی کہ یہ عالمی ورثہ خطرے میں ہے اور اس کی حفاظت کے لئے مدد کی جائے- پاکستان میں آثار قدیمہ کی دیکھ بھال اور تحفظ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے- وفاقی حکومت نے اس عالمی ورثے کے تحفظ کے لئے الگ سے کوئی رقم مختص نہیں کی ہے- سائٹ پر قائم سائنٹیفک لیبارٹری ایک عرصے تک کوئی کیمسٹ ڈیوٹی پر موجود نہیں رہا۔ اس ورثے کے تحفظ اور براہ راست نگرانی کے لئے انتظامی بورڈ قائم کرنے کے فیصلے کو بھی دو برس کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن تاحال یہ بورڈ تشکیل نہیں دیا گیا ہے- ممتاز محقق اور آثار قدیمہ کے ماہر بدر ابڑو کا کہنا ہے کہ اس عالمی ورثے کی مسلسل تباہی کی دو وجوہات ہیں- پہلی متعلقہ حکام کی عدم دلچسپی اور دوسری تربیت یافتہ عملے کی کمی ہے جس کی وجہ سے زیرِزمین پانی اور بےرحم موسم صورتحال کو مزید خراب کر رہا ہے- انہوں نے بتایا کہ ایک بڑی رقم اس مد میں موجود ہے لیکن چھ سال قبل اتھارٹی فار پریزرویشن آف موہنجوڈارو ختم کرنے کے بعد اسے استعمال نہیں کیا گیا ہے- ضلعی حکومت لاڑکانہ نے قدیم تہذیبی ورثے کو پہنچنے والے نقصان پر وفاقی حکومت سے رابطہ قائم کیا ہے- ضلع ناظم خورشید جونیجو نے بتایا کہ اگر موہنجوڈارو ضلعی حکومت کے حوالے کیا جائے تو وہ اس کے تحفظ کے لئے مؤثر اقدامات کر سکتی ہے- انہوں نے کہا کہ ان کی تجویز پر یونیسکو کی اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس چار مارچ کو اسلام آباد میں طلب کیا گیا ہے- بدر ابڑو نے کہا کہ موہنجوڈارو کے تحفظ کے لئے ایک مستقل ادارہ قائم کرنے کی ضرورت ہے- موہنجوڈارو کی اس حالت پر سندھ کے ادبی اور سماجی حلقوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے اور اس امر پر بھی تعجب کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ حکومت سندھ کی جانب سے تاحال اس ضمن میں اقدامات کئے گئے ہیں اور نہ وفاقی حکومت سے رابطہ قائم کیا گیا ہے- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||