پاکستان کا ریکارڈ 149 ملکوں سے برا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا بھر میں صحافتی آزادی کے لیےسرگرم فرانسیسی تنظیم ’رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ یا آر ایس ایف کی سال دو ہزار پانچ کے لیے حال ہی میں جاری کی گئی رپورٹ میں کی جانے والی ترتیب یا رینکنگ کے مطابق فریڈم آف پریس یا صحافت کی آزادی کے اعتبار سے پاکستان کا نمبر ایک سو سڑسٹھ ملکوں میں سے ایک سو پچاسواں ہے۔ شمالی کوریا کا ریکارڈ آزادی صحافت کے حوالے سے سب سے برا بتایا گیا ہے اور اسی لیے یہ فہرست میں سب سے نیچے یعنی ایک سڑسٹھویں نمبر پر ہے۔ پاکستان آزادی صحافت کے حوالے سے شمالی کوریا کے علاوہ جن ملکوں سے بہر حال بہتر ریکارڈ رکھتا ہے ان میں ایران، لیبیا، ترکمانستان، چین، ایریٹریا، سعودی عرب، نیپال، کیوبا اور عراق جیسے ممالک آتے ہیں جہاں صحافت مجموعی طور پر سرکاری کنٹرول میں ہے۔ آزادی صحافت کے حوالے سے آر ایس ایف کی رینکنگ کے مطابق جنگوں اور اندرونی ریشہ دوانیوں سے تباہ حال افغانستان بھی پاکستان سے نسبتاً بہتر ریکارڈ کا حامل ہونے کے سبب ایک سو پچیسویں نمبر پر ہے۔ صحافتی آزادی کے حوالے سے بہتر ریکارڈ کے حامل دس سر فہرست ممالک میں ڈنمارک، ہالینڈ، ناروے، سوئٹزرلینڈ اور چیک ریپبلک شامل ہیں۔ برطانیہ چوبیسویں جبکہ امریکہ چوالیسویں نمبر پر ہیں۔برطانیہ پچھلے سال تیسویں جبکہ امریکہ تئیسویں نمبر پر تھا۔ تاہم آر ایس ایف کے مطابق امریکہ کی یہ رینکنگ صرف امریکہ کے اندر ہے کیونکہ عراق میں امریکہ آزادی صحافت کے حوالے سے ایک سو سینتیسویں نبمر پر ہے۔ آر ایس ایف کے مطابق آزادی صحافت ک حوالے سے فرانس کا ریکارڈ اس سال اخبارات کے دفاتر پر چھاپوں، صحافیوں سے تفتیش اور نئے پریس قوانین کے باعث خراب ہوا جس کی وجہ سے فرانس جو پچھلے سال بیسویں نمبر تھا اب تیسویں نمبر پر ہے۔ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈز آزادی صحافت کے حوالے سے ملکوں کی سالانہ درجہ بندی سال دوہزار دو سےکر رہی ہے۔ دوہزار دو میں پاکستان کا نمبر ایک سو انیس، دوہزار تین میں گر کر ایک سو انتیس اور سال دو ہزار چار میں مزید کم ہو کر ایک سو پچاس ہوا ہے۔ تاہم اس سال مسلسل ’گراوٹ‘ کا رحجان قابو میں رہا اور پاکستان نے آر ایس ایف کی رینکنگ میں پچھلے سال والی پوزیشن برقرار رکھی۔ جبکہ بھارت جو سال دو ہزار چار میں ایک سو بیسویں نبمر پر تھا اس سال آزادی صحافت کے حوالے سے اپنا ریکارڈ بہتر کر کے ایک سو نویں نمبر پر آ گیا ہے۔ آر ایس ایف کے مطابق آزادی صحافت کی یہ درجہ بندی صحافیوں اور نیوز میڈیا آرگنائزیشنز کو درپیش مسائل کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ ان مسائل میں پُرتشدد کارروائیاں، قید و بند اور آزادی اظہار پر پابندیاں وغیرہ شامل ہیں۔ مزید برآں پریس کو خاموش کرانے کے لیے قانون سازی، ریاستی اجارہ داری اور میڈیا ریگولیٹری باڈیز کا قیام وغیرہ کو بھی کسی ملک میں آزادی صحافت کی صورتحال کا تعین کرنے کے حوالے سے خاص طور پر دیکھا جاتا ہے۔اس حوالے سے حکام کا ریاستی سرپرستی میں چلنے والے میڈیا اور غیر ملکی پریس کے ساتھ رویے کا بھی موازنہ کیا جاتا ہے۔ تاہم آر ایس ایف کے مطابق آزادی صحافت کی رینکنگ کا متعلقہ ممالک میں صحافت کے میعار سے کوئی تعلق نہیں۔ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کو آزادی اظہار کے لیےکام کرنے پر یورپین پارلیمان کی طرف سے سال دو ہزار پانچ کا سخاروف پرائز برائے آزادی فکر دیا جارہا ہے۔ | اسی بارے میں بی بی سی اردو کی نشریات پر پابندی15 November, 2005 | پاکستان چھ نئے ایف ایم ریڈیو سٹیشن 22 October, 2005 | پاکستان ٹی وی، ریڈیو چینلز مالکان کی تنظیم 24 September, 2005 | پاکستان ریڈیو پاکستان، عملے کی ہڑتال 23 September, 2005 | پاکستان کراچی میں آزادی صحافت ریلی09 August, 2005 | پاکستان صحافت آج بھی پا بہ زنجیر12 May, 2005 | پاکستان ’صحافت آج بھی قید ہے‘12 May, 2005 | پاکستان ’آزادی صحافت کے دعوے ڈھونگ‘02 May, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||