BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 May, 2005, 16:11 GMT 21:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’آزادی صحافت کے دعوے ڈھونگ‘
News image
پاکستان میں صحافیوں کی نمائندہ تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جے) نے آزادی صحافت کے بین الاقوامی دن کے موقعہ پر پاکستان میں آزادی صحافت کی صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ’دباؤ‘ اور ’دھمکاؤ‘ کے ہتھکنڈے اب بھی پاکستان میں حکومت اور اس کی ایجنسیاں پریس کا گلہ گھوٹنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات نے پی ایف یو جے کی رپورٹ کو مسترد کر دیا اور کہا کہ پاکستان میں صحافت کو جتنی آزادی اب ہے پہلے کبھی نہ تھی۔

شیخ رشید نے کہا پی ایف یو جے کے ممبران ویج بورڈ کے بارے میں خبر اپنے اخباروں میں چھپوانے کے قابل تو نہیں ہیں لیکن حکومت کے بارے میں وہ جو کچھ لکھتے ہیں وہ چھپ جاتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے میڈیا کی آزادی کی پالیسی پر گامزن ہے اور سینتیس پرائیوٹ چینلز کو اجازت دینے والی ہے۔ ان چینلز کے مالکوں میں اخباری مالکان بھی ہیں۔

پی ایف یو جے کی رپورٹ میں مزید کہا گیا سال دوہزار چار دو ہزار پانچ میں بھی پاکستان میں اخبار نویس سیکیورٹی ایجنسی کے اہلکاروں، پریشر گروپس، سیاسی اور مذہبی تنظیموں کی طرف سے تشدد کا نشانہ بنتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ اس عرصے میں صحافیوں کے خلاف تین واقعات نے حکومت کی آزادی صحافت کے بارے میں دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔

پی ایف یو جے نے جو کہ بین الاقوامی سطح پر انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹ سے منسلک ہے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان ملک میں نجی ٹی وی چینل اور ایف ایم ریڈیو اسٹیشن قائم کرنے کے لائسنس تو جاری کر رہی ہے لیکن وہ خبروں کو آج بھی دبا رہی ہے۔

پی ایف یو جے نے کہا کہ حال ہیں میں آصف زرداری کی وطن واپسی کے موقعہ پر لاہور اور کراچی میں پولیس اور انتظامیہ نے نہ صرف اخبار نویسوں کو ان کی پیشہ وارانہ خدمات کی ادائیگی سے روکا بلکہ ان کو تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ میں کوئٹہ میں مشرق آخبار پر کچھ نامعلوم افراد کی طرف سے حملے کا تذکرہ کیا گیا۔

پی ایف یو جے نے آزادی رائے اور آزادی صحافت کے بارے میں حکومتی دعوؤں کی تردید کی اور کہا کہ آزادی صحافت کے خلاف کالے قوانین کی موجودگی میں یہ دعوے ایک ڈھونگ سے کم نہیں ہے۔

پی ایف یو جے نے اخباری مالکان کی تنظیم آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پاکستان میں خبروں کو دبانے میں اخباری مالکان اہم کردار کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اخبارات میں اخبارنویسوں کی نمائندہ تنظیوں کی خبر شائع کرنے پر پابندی ہے۔ اس ضمن میں رپورٹ نے ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین کے اخبارنویسوں کے حق میں دیے گئے ایک بیان نشاندھی کی۔ الطاف حسین نے اس بیان میں اخبار نویسوں کی اجرتوں میں اضافے کی حمایت کی تھی جسے تمام اخبارات نے شائع کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ شمالی علاقہ جات میں فوجی آپریشن کے دوران خبروں کو روکا گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد