BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 December, 2004, 16:12 GMT 21:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آزادیِ اظہار، مذہب اور آج
News image
اس ہفتے برمنگھم کے ایک تھیٹر نے اس ڈرامے کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی وجہ سے شہر کی سکھ آبادی نے مشتعل ہو کر تھیٹر پر دھاوا بول دیا تھا۔ سکھوں کاکہنا تھا کہ ’بےعزتی‘ نامی اس ڈرامے میں ایک گردوارے میں قتل اور جنسی فعل کے مناظر دکھائے جانے سے سکھ مذہب کی بدنامی ہوئی ہے۔

حال ہی میں کمبوڈیا کی حکومت نے ایک گانے کے ویڈیو پر ایک بدھ راہب اور لڑکی پر فلمائے گئے سین کی وجہ سے پابندی لگا دی تاہم اس سے اسے گانے والے گلوکار کی شہرت میں اضافہ ہوا۔ نومبر میں ہالینڈ میں بھی ایک فلم ساز تھیو وان گاف کو اسلام میں عورتوں پر کیے جانے والے سلوک پر بنائی جانے والی ایک متنازعہ فلم پر قتل کر دیا گیا تھا۔

ان تمام واقعات سے آزادیِ اظہار کے بارے میں ایک نئی بحث اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ ’آزادیِ اظہار کیا ہے؟ اگر کسی کے جذبات مجروح کرسکنے کی آزادی نہ حاصل ہو تو اس کا وجود ختم ہوجاتا ہے۔‘ یہ بات پندرہ برس قبل سلمان رشدی نے لکھی تھی جن کے خلاف ان کی کتاب ’شیطانی آیات‘ کی وجہ سے فتویٰ بھی جاری کیا گیا۔

آزادیِ اظہار کیا ہے؟ اس کی کیا قانونی حدود متعین ہونی چاہئیں؟ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ حکومتیں ان قوانین کا استعمال کرتے ہوئے ملک میں سیاسی اور شخصی آزادی کو نہیں دبائیں گی؟ کیا گردواروں، مسجدوں، کلیساؤں اور دیگر مذہبی مقامات پر پیش آنے والے واقعات کا دکھایا جانا غلط ہے؟ یہ کون طے کرے گا کہ کیا حد میں ہے اور کیا نہیں؟ آپ اس بارے میں کیا سوچتے ہیں، ہمیں لکھ بھیجیں۔

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


جاوید سورٹِھیا، امریکہ:
ہر آزادی کا ایک الگ ہی مفہوم ہے۔ آپ نے جناب سلمان رشدی کے بارے میں لکھا۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی انسان کے جذبات مجروح کرنے کا نام ہی آزادیِ اظہار ہے۔ اگر آزاد خیالی جائز ہے تو کیا دل آزاری جُرم نہیں؟ اگر دل آزاری جرم نہیں تو بڑی عجیب بات ہے اور اگر ہے تو کیا برطانیہ مجرم نہیں؟ جس نے اس کتاب پر پابندی عائد نہیں کی۔ وجہ صرف اتنی ہے کہ برطانیہ ہو یا امریکہ، انھیں مسلمانوں کے جذبات کی کوئی پرواہ نہیں۔ سلمان رشدی صاحب کو تو اسلام مذاق لگتا ہے لیکن باقی مسلمانوں کے لیے اسلام مذاق نہیں بلکہ حقیقت سے قریب تر ہے۔

سعید بٹ، لاہور:
کسی کے مذہب کی توہین کرنا کوئی قابلِ ستائش عمل نہیں ہے۔ مسجد اور مندر ایسی جگہیں ہیں جہاں تواتر کے ساتھ جنسی جرائم کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔ ایسے استحصال کا پردہ چاک کرنا عین جہاد ہے۔

عمران اعوان، جرمنی:
شاید ہم سب اپنی پہچان بھولتے جا رہے ہیں اسی وجہ سے ایسی باتیں منظر عام پر آرہی ہیں۔ میرے خیال سے کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ کسی کے مذہب پر تنقید کرے، ہاں اچھے پہلوؤں پر روشنی ضرور ڈالی جانی چاہئے۔

سلیم احمد، کراچی:
اگر مدارس میں بد فعلی ہوتی ہے یا گردواروں میں زنا ہوتے ہیں اور کوئی اس کی طرف توجہ مبذول کرائے تو کیا یہ مذہب کی توہین ہے؟ ہم مذہب کے معاملہ میں کچھ زیادہ ہی جذباتی ہیں۔ جب تک ہم پر کوئی مصیبت نہ پڑے ہم سمجھتے رہتے ہیں کہ دُنیا بھر میں سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔ یہ آزادیِ اظہار ہی ہے جو اس قسم کی مسائل کو اُجاگر کر سکتا ہے۔اگر صحیح بات کی جا رہی ہے تو کسی کی توہین نہیں ہوتی۔

اِشتیاق الدین روشن، انڈیا:
جس طرح کسی کو جسمانی تکلیف پہنچانا جُرم ہے اسی طرح کسی کے جذبات اور عقیدہ کو ٹھیس پہنچانا بھی جُرم ہے۔

علی عمران شاہین، لاہور:
آزادی اظہار کا مطلب یہ نہیں کہ جس کی چاہو دل آزاری اور جذبات مجروح کرنا شروع کر دو۔ایسی آزادی پر پابندی ہونی چاہیے جو کہ دنیا میں فساد کا باعث بنے۔

غلام حیدر، پاکستان:
ایسے واقعات اگر سچے ہوں تو انھیں ضرور دکھانا چاہیے۔اس انداز سے کہ کسی بھی شخص یا مذہب کو اس سے تکلیف نہ ہو۔

محمد عامر خان، کراچی:
دنیا میں آزادیِ اظہار کا سب سے پہلا نشانہ مذہب ہی بنتا ہے۔ ایک دوسرے کے عقائد کو جب نشانہ بنایا جاتا ہے تو ایک فضول قسم کی بحث کا آغاز ہو جاتا ہے۔ آزادیِ اظہار کی پوری دنیا میں ایک حد مقرر ہونی چاہئے جس کے تحت کسی کے مذہب کو نشانہ بنانے کے اِجازت نہیں ہونی چاہئے۔

امین، پاکستان:
یہ آزادیِ اظہار نہیں ہے بلکہ کسی کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا ہے۔ اس طرح کے ڈرامے اور فلمیں بنانا دراصل بے حیائی کو تقویت دینا ہے اور اس سے گریز کرنا چاہیے۔

یہی ساری دُنیا کا حال ہے
 پاکستان میں جب بھی کسی نے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا تو اس کے خلاف کارروائی کی گئی لیکن جب بھی کسی نے اقلیتوں کے خلاف بات کی تو ہمیشہ دبا دی گئی۔
امبرین بنگش، کینڈا

امبرین بنگش، کینڈا:
آزادیِ اظہار دنیا میں رہنے والے ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ سلمان رُشدی کی کہی ہوئی یہ بات کہ ’آزادیِ اظہار کیا ہے؟ اگر کسی کے جذبات مجروح کرسکنے کی آزادی نہ حاصل ہو تو اس کا وجود ختم ہوجاتا ہے۔‘ بلکل غلط ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو دنیا میں صحافت کا نام و نشان نہ ہوتا۔ صحافی جو آزادی اظہار کا مُنہ بولتا ثبوت ہیں کسی حد میں رہ کر ہی سچ کا اِظہار کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ بعض ممالک کی حکومت کے دباؤ کے وجہ سے اُن کی آزادی مجروح ہوتی ہے۔ پاکستان میں جب بھی کسی نے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا تو اس کے خلاف کارروائی کی گئی لیکن جب بھی کسی نے اقلیتوں کے خلاف بات کی تو ہمیشہ دبا دی گئی۔ یہی ساری دُنیا کا حال ہے۔

کرن جِبران، کینڈا:
اس قسم کی فلمیں بنانے والوں کو شرم آنی چاہیے جس سے کسی کے احساسات کو تکلیف پہنچے۔ یہ سراسر پروپگنڈے کے زمرے میں آتا ہے۔

ارسلان، مانچسٹر:
اس طرح کے ڈرامے بلکل غلط ہیں۔ جس آزادی سے عزت جاتی ہو وہ آزادی نہیں بلکہ بربادی ہے۔

عفاف اظہر، کینڈا:
آزادیِ رائے اس حد تک جائز ہے جب تک کسی مذہب کی تعلیم پر تنقید اور اس کے لوگوں کے جذبات مجروح نہ ہوں۔ اچھے اور برے لوگ تو ہر معاشرے اور مذہب میں ہوتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی ایک شخص کی غلط حرکت کی وجہ سے پورے معاشرے یا مذہب کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔ میں اسے آزادیِ رائے نہیں پروپیگنڈا کہوں گی۔

خالد گُرمانی، پاکستان:
کسی کی دل آزاری کو آپ آزدای کا نام کیوں دے رہے ہیں؟ ظاہر ہے جب کسی انسان کے مذہب پر کوئی تنقید کرتا ہے تو وہ آزادیِ اظہار نہیں۔ کیا سلمان رشدی کے کتاب بھی آزادیِ اظہار تھی؟ نہیں یہ ایک فتنہ تھا۔ آزادیِ اظہار کی بھی کوئی حد ہونا ضروری ہے۔

کامران مُنور، پاکستان:
یہ نام نہاد دانشور دوسروں کے مذہب کی توہین کر کے کون سا دنیا کی بھلائی کر رہے ہیں۔ اظہار خیال کے اور بہت سے طریقے ہیں۔

محمد سلمان،سپین
آزادیِ اظہار کا رونا ساری دُنیا میں رویا جاتا ہے۔ زیادہ تر آزاد خیال لوگ مذہب پر ہی اپنی آزادی کا استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے سدِباب کی کوئی تدبیر ہونی چاہیے کیوں کے مذہب پر بحث ایک حساس مسئلہ ہے۔

فراز قُریشی، پاکستان:
ایک طرف آزادیِ رائے کے بات ہوتی ہے تو دوسری طرف اس کو کنٹرول کرنے کی۔ کیا یہ ایک عجیب بات نہیں ہے؟۔ جو چیز دنیا میں ہو رہی ہے اُسے دنیا سے یا اپنی نظروں سے چُھپانا ایک دھوکہ کے سوا کچھ نہیں۔ اگر دُنیا میں کسی بھی جگہ ظُلم ہوتا ہے چاہے وہ مسجد ،گُردوارہ، چرچ یا مندر ہو اس کو دکھانا چاہیے۔ آزادیِ اظہار کی قانونی حد کون مقرر کرے گا؟

شبیر نظامانی، حیدرآباد :
جب آزادی کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو آپ کسی کی توہین کرنے کے سوا ہر کام کر سکتے ہیں لیکن کسی کی بے عزتی کی اجازت نہیں۔ جو بات آپ خود برداشت نہیں کر سکتے وہ آپ دوسروں کے لیے بھی کہنے کا حق نہیں رکھتے۔

انسان کبھی بھی آزاد نہیں ہوتا
 انسان کبھی بھی آزاد نہیں ہوتا، اس کے کندھوں پر کوئی ذمہ داری ضرور ہوتی ہے۔
واصف شمس، پاکستان

واصف شمس، پاکستان:
آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کچھ ایسا کرنا یا کہنا شروع کر دیں جو دوسروں کے لیے بے سکونی کا سبب بنے۔ ایک طرح سے انسان کبھی بھی آزاد نہیں ہوتا، اس کے کندھوں پر کوئی ذمہ داری ضرور ہوتی ہے۔ کبھی کبھار یہ ذمہ داری اپنے خاندان، دوستوں اور ارد گرد کے دوسرے لوگوں کی طرف سے ہوتی ہے کیونکہ ہر شخص مل کر معاشرہ بناتا ہے۔ لوگوں کے بغیر معاشرے کا کوئی وجود نہیں۔

ہمایوں طارق، عرب امارات:
آزادیِ اظہار کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کسی کی عزت، زندگی یا مذہب کو نشانہ بنانا شروع کر دیں جس سے دوسرے لوگوں کے جذبات مجروح ہوں۔ اگر آپ کو لکھنا ہی ہے تو ان لوگوں کے مسائل پر لکھیں اور آواز اُٹھائیں جن کی بات سُننے والا کوئی نہیں ہے مثلاً غربت، بےروزگاری اور ظُلم کے خلاف آواز اُٹھائیں۔

:عرفان عنایت، پاکستان:
آزادی رائے اپنی جگہ لیکن کسی بھی شخص یا ادارہ کو یہ حق حاصل نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کسی کے بھی مذہبی اقدار کا مذاق اُڑائے یا کسی کی مذہبی رسومات کو تنقید کا نشانہ بنائے۔

:عاصف احمد صدیقی، کراچی:
آزادیِ اظہار ہونا چاہئے مگر کسی حد تک، اس کا کوئی ضابطہ ہونا چاہئے کہ کون سے مسائل پر کھل کر بات کرنی ہے اور کن مسائل پر نہیں۔ مذہبی مسائل چونکہ بہت نازک ہوتے ہیں اس لیے ان پر اظہار و خیال دوسروں کی دل آزاری کی وجہ ضرور بنتا ہے۔

:جاوید اقبال ملک، پاکستان:
مذہب پر تنقید کرنے سے پہلے تحقیق لازم ہے۔ اگر آپ کسی کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر اس سے کسی کو تکلیف ہوتی ہے تو احتیاط ضروری ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد