BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 May, 2004, 14:11 GMT 19:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوال کرنا میرا حق ہے: ارشاد مانجی

News image
مصنفہ اور کینیڈا ٹی وی کی میزبان صحافی ارشاد مانجی
دنیا کی ایک ارب سے زائد مسلمان آبادی آخر اسرائیل اور فلسطین کے تنازع پر خود کو کیوں مشتعل رکھے ہوئے ہے؟ مسلمانوں کا اصل استحصال امریکہ نے کیا ہے یا خود عربوں نے؟ قرآن جیسی مشکل اور مبہم مقدس کتاب کو مسلمان کیوں حرف بہ حرف قبول کرتے ہیں؟ یہی ہیں وہ بعض بے چینی پیدا کرنے والے سوالات جنہوں نے ٹورانٹو کی ایک خاتون کو اپنے اسلامی عقیدے کے بارے میں ایک پوری کتاب لکھ ڈالنے پر مجبور کیا ہے ۔ کتاب کا عنوان ’دی ٹربل وتھ اسلام‘ ہے اور اسکی مصنفہ کینیڈا میں ٹیلی وژن کی جانی پہچانی میزبان صحافی ارشاد مانجی ہیںـ

ان کی تصنیف ایک کتاب سے زیادہ ذاتی تجربات اور تحقیق پر مبنی ایک کھلا خط ہے جس میں انہوں نے مسلمانوں کو اپنے گریبان کے اندر جھانکنے کی ترغیب دینے کی کوشش کی ہےـ

ارشاد مانجی کی کتاب کی گذشتہ مہینوں کینیڈا اور امریکہ میں اشاعت پر وہاں کے بڑے بڑے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا میں تبصرے اور مباحثے جاری ہیں۔برطانیہ میں ان کی متنازع کتاب اسی ہفتے منظرِ عام پہ آئی ہے۔

ارشاد مانجی کا تعارف
 ارشاد مانجی کی عمر پینتیس برس ہے اور ٹورانٹو (کینیڈا) میں رہتی ہیںـ ان کی پیدائیش افریقہ میں ہوئی جہاں وہ یوگانڈا میں اپنے والدین کے ساتھ رہتی تھیں۔ سن ستر کے اوائل میں ایدی آمین کے فوجی دورِ حکومت میں یوگانڈا میں جنوبی ایشیا کے ہزاروں تارکینِ وطن کو فوری طور پرملک چھوڑنے کا حکم ملا۔ وہاں سے امریکہ ہجرت کرنے والے لوگوں میں چار برس کی ارشاد مانجی کا خاندان بھی شامل تھا۔

قارئین کی جانب سے جہاں ایک طرف انہیں اپنی کتاب پر کافی حوصلہ افزا خطوط آئے، وہیں جان سے مارنے کی بھی کئی دھمکیاں موصول ہوچکی ہیں۔ناقدین نے انہیں لتاڑتے ہوئے کہیں انہیں سلمان رشدی کی پیروکار کہا ہے تو کہیں وہ ’صہیونی ایجنٹ‘ اور ’اسلام دشمن‘ کے خطابات سے نوازی جا چکی ہیں۔ لیکن ارشاد مانجی بلا خوف و خطر اسلام کے مسائل پر اپنے خیالات کے فروغ کے لئے مخلتف شہروں کے دوروں پر رہتی ہیںـ

چند ہی روز پہلے ارشاد مانجی کا لندن آنا ہواـ میری ان سے ملاقات بی بی سی بش ہائوس میں ہوئی ـ گفتگو کے دوران میں نےان سے پوچھا کہ ان کے نزدیک آخر اسلام کا اصل مسئلہ ہے کیا؟

ارشاد مانجی: میرا اسلام کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ میں تنگ نظر علماء کی ہر بات پر اندھا یقین کرنے سے انکار کرتی ہوں۔میں نے قرآن کا مطالعہ کیا ہے، اس پر تحقیق کی ہے ـ اور میری نظر میں قرآن میں بے شمار باتیں ایسی ہیں جو بہت روشن خیال اور اصلاحی ہیں ـ لیکن ساتھ ہی ایسی بھی کئی باتیں ہیں جو موجودہ دور کی بنیادی انسانی اقدار کے منافی نظر آتی ہیںـ میرا مسلمانوں سے سوال یہ ہے کہ وہ صدیوں پہلے ترتیب دی جانے والی ایک کتاب کو کیسے حرف بہ حرف قبول کر سکتے ہیں؟

سوال: لیکن اچھے برے لوگ تو ہر مذہب میں پائے جاتے ہیں ـ آپ کے نزدیک مسئلہ اسلام کے ساتھ ہے یا بعض تنگ نظر مسلمانوں کے ساتھ؟

ارشاد مانجی: میرے نزدیک مسئلہ اسلام کے ساتھ ہے ـ کیونکہ مذہب کی شناخت تو اس کے پیروکاروں کے اجتماعی اعمال و کردار سے ہی ہوتی ہے ـ آپ اپنے اردگرد دیکھیں اسلام کے نام پر کیا کچھ ہو رہا ہے ـ یہ کیسی جہادی کارروائیاں ہوتی ہیں جن میں ایک امن پسند مذہب کے نام پر خودکش حملے کیے جاتے ہیں، معصوم لوگ مارے جاتے ہیں؟ مسلمانوں کی اکثریت ایسے موقعوں پر کیوں خاموش تماشائی بنی رہتی ہے؟ کیوں ہم میں یہ جرات نہیں ہوتی کہ ہم دہشتگردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ سکیں کہ تم کس کی باتوں میں آکر زندگیاں ضائع کرنے چلے ہو؟

میں یہ ہرگز نہیں کہہ رہی کہ عیسائیوں یا یہودیوں میں کّٹر نظریات کے تنگ نظر لوگ نہیںـ ہیں ضرور ہیں! فرق صرف اتنا ہے کہ دیگر مذاہب میں ایسے لوگ نسبتاً کم ہوتے ہیں اورعام طور پر وہ دوسروں پر حاوی نہیں ہوتے ـ لیکن اسلام میں قرآن کے ہر لفظ پر سو فیصد یقین رکھنے والے لوگ نہ صرف بڑی اکثریت میں ہیں بلکہ ان کے نزدیک مقدس کتاب کے کسی پہلو پر سوال اٹھانا ہی گناہِ کبیرہ ہےـ

سوال: عقیدہ ایک حساس اور نازک معاملہ ہے ـ مغرب میں اس پر بحث ہوتی ہے ـ لیکن آپ کے خیال میں اسلامی دنیا میں ایسی بحث کیوں نہیں دیکھنے میں آتی؟

ارشاد مانجی کے عقائد
 وہ کہتی تو خود کو ’مسلمان‘ ہیں لیکن ان کی حالیہ شہرت کی بڑی وجہ اسلام کے بعض پہلوئوں پر کڑی تنقید ہےـ ارشاد اسرائیل کو رشک کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ ان کے نزدیک اسلامی دنیا میں یہودیوں کے خلاف نفرت کی وجہ اسرائیل فلسطین تنازع اتنا نہیں جتنا خود مسلمانوں کی مقدس کتاب ہے ، جس میں ایک طرف تو ہر ایک کے ساتھ محبت اور رواداری کا درس دیا گیا ہے اور دوسری جانب یہودیوں سے خبردار رہنے کی تلقین بھی کی گئی ہے۔

ارشاد مانجی: میری رائے میں اسلام میں ہم نے ایک ایسی قبائلی سوچ کو اپنا لیا ہے جس کے تحت مذہب کے اندر واضح تضادات قابلِ بحث نہیں اور ذہن کا استعمال قابلِ قبول نہیں رہاـ بس ہمارا سارے کا سارا زور قرآن کو بِلا سوچے سمجھے حِفظ کرنے اور اس کی پاکیزگی کے دعوؤں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ اسلامی دنیا میں ستاسّی فیصد مسلمانوں کے لئے عربی ایک غیر زبان ہےـ تو پھر ان لوگوں پر قرآن ایک ایسی زبان میں پڑھنے پر کیوں زور دیا گیا ہے جسے وہ جانتے نہیں، سمجھتے نہیں؟

سوال: آپ کے خیال میں اس کی بظاہر کیا وجہ ہے؟

ارشاد مانجی: وجہ صاف ہےـ مسلمانوں کی اکثریت کے لئے قرآن سمجھنا کوئی آسان بات نہیں، نہ ہی وہ اسے پورے ترجمے اور تشریح کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیںـ وہ دوسروں کی پھیلائی ہوئی اس عمومی خوش فھمی کا شکار رہتے ہیں کہ بس قرآن میں دنیا کے ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔جو تھوڑا بہت اسے جاننا چاہتے ہیں وہ تشریح کے لئے تنگ نظر علماء پر انحصار کرتے ہیںـ مولوی اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے لئے اسلام کے ان پہلوؤں پر زور دیتا ہے جو ایک پرانے دور کے فرسودہ اور دقیانوسی نظریات کو فروغ دیتے ہیں۔یوں اسلام میں سوال کرنا جرم اور ہر الٹی سیدھی بات پر’ آمین ثم آمین‘ کرنا مسلمانوں کی روایت بن گئی ہے ۔میرے خیال میں یہ مسلمانوں کے لئے ایک خطرناک صورتحال ہےـ

سوال: آپ کو اندازہ کہ آپ جس انداز سے اسلام پر تنقید کر رہی ہیں اس سے مغربی دنیا میں اسلام کے خلاف پہلے سے موجود جذبات میں اضافہ ہو سکتا ہے؟

ارشاد مانجی: میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتی ـ بلکہ میری رائے میں تو اگر ہم عالمی حالات و واقعات کو بہانہ بنا کر بحث مباحثے دباتے رہے، چبھتے ہوئے سوالات کرنے والوں کو خاموش کرنے کے لئے فتوے جاری ہوتے رہے تو اس سے اسلام کے مسائل میں اضافہ ہی ہوگاـ اگر ہم اسلام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے ماضی، نظریات اور اعمال پر تنقیدی نگاہ ڈالنی ہوگی ـ ہم اپنے ہر مسئلہ کا ذمہ دار امریکہ یا مغرب کو نہیں ٹھہرا سکتے ـ ہمیں تنگ نظری، نفرت اور غصے سے بھرے رہنے کو ترک کرنےکی عادت ڈالنا ہوگی ـ اسلام میں موجود تضادات اور اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرنے کی جرات کرنی ہوگی ـ اسلامی دنیا میں کس نے مذہب کے ٹھیکیداروں کو یہ حق دیا ہے کہ وہ بعض قرآنی آیات کو بنیاد بنا کر عورتوں کا استحصال کریں؟ یا ہم جنس پرستوں کو جہنمی قرار دیں؟

لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ اسلام میں تو ہم جنس پرستی جائز نہیں، آپ کیسے خود کو بیک وقت مسلمان اور ہم جنس پرست کہتی ہیں؟ میرا انہیں ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ قرآن میں اللہ نے خود کہا ہے کہ میری ہر تخلیق خوبصورت ہے ـ اگر اللہ کو انسانوں میں واقعی ہم جنسیت قابلِ قبول نہ ہوتی تو وہ ہم میں سے بعض کو ایسا بناتا ہی نہیں ـ لیکن فرض کر لیجئے کہ اسلام میں ہم جنس پرستی گناہ ہو بھی، تب بھی اس کا فیصلہ کرنے کا حق کسی اور کو نہیں صرف میرے خالق کو حاصل ہے ـ

سوال: آپ کے پاس اسلام کے مسائل پر تو کہنے کو بہت کچھ ہے ،لیکن حالات میں بہتری کے لئے آپ کے خیال میں کیا ہونا چاہئے؟

ارشاد مانجی کی ذاتی زندگی
 ارشاد مانجی ہم جنس پرست ہیں۔ لیکن اس بات کو چھپانے کی بجائے وہ اس کا کھل کر اقرار کرتی ہیںـ وہ خواتین کے حقوق کی علمبردار بھی ہیں اور ان کے خیال میں قرآن عورتوں کے معاملات پر غیر واضع ہے۔

ارشاد مانجی: میرا مقصد اسلام پر بے جا تنقید کرنا یا کسی کی دل آزاری کرنا نہیںـ لیکن میں اپنے اظہارِ آزادی کے حق سے دستبردار ہونے کے لئے بھی تیار نہیں ـ میں اسلام میں مثبت اور تعمیراتی تنقید کے لئے ماحول بنتا دیکھنا چاہتی ہوں ـ ہمیں اسلام میں ماضی کا جمود توڑ کر اسے اکیسویں صدی کی عالمی انسانی اقدار سے ہم آہنگ کرنا ہوگاـ اس کے لئے ہمیں کہیں اور رجوع کرنے کے بجائے اسلام کے ابتدائی دور کی اپنی روایت، اجتہاد کو فروغ دینا ہوگاـ وہی اجتہاد جس میں مذہبی مسائل اور تنازعات کے حل کے لئے گفتگو، بحث، دلائل دینا، ذہن سے سمجھنا اور سمجھانا ہی بہترین طریقہ تھا ـ

(آپ چاہیں تو ریڈیو پر ارشاد مانجی کی شاہ زیب جیلانی کے ساتھ یہ گفتگو پیر کے روز تین مئی کو بی بی سی اردو سروس کے پروگرام سیربین میں سن سکتے ہیں)

اس انٹرویو پر قارئین کا ردعمل

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں

سید زیدی، ٹورانٹو: مسٹر شاہ زیب جیلانی، آپ ایسے شخص سے اسلام کے بارے میں سوالات کررہے ہیں جو شراب پیتی ہے، حرام کھاتی ہے، نائٹ کلب میں تفریخ کرتی ہے؟ ان سے اسلام کے بارے میں آپ کس جواب کی توقع رکھتے ہیں؟ انہیں ٹیلی ویژن پر اس لئے بلایا جاتا ہے کہ وہ اسلام سے نفرت کرتی ہیں۔ ہمیں ان سے نفرت نہیں کرنا چاہئے کیونکہ شیطان بھی تو خدا کا مخلوق ہے۔

امتیاز شاکر، حیدرآباد دکن: وہ مسلمان نہیں ہیں۔ انہیں ایک بار پھر کلمہ پڑھنا پڑے گا۔ اور اللہ اور پیغمبر محمد میں یقین کرنا پڑے گا اور کھلے دل سے قرآن پڑھنے کی ضرورت ہے۔

رعوف چغتائی، پاکستان: میرے خیال سے مصفنہ کو قرآن پڑھنے کی ضرورت ہے، تفصیلی طور پر۔ انہوں نے تعصبانہ طریقے سے مقدس کتاب کا مطالعہ کیا ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ اسلام کے پھیلنے سے پہلے کتنے غیرمسلم مارے گئے اور پھر اس کا اس بات سے موازنہ کریں کہ کتنے مسلمان تہذیب یافتہ ممالک نے ہلاک کردیے۔

سید افراہیم شاہ، ڈبلِن: قرآن کے بارے میں اس قسم کے خیالات پر مجھے ان محترمہ کی تعلیمی پستی پر افسوس ہوا۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں: ’میں نے جتنی بار قرآن پڑھا اتنی بار مجھے کچھ نئی اپروچ ملی۔‘

محمد سہیل ساقی، پاکستان: ارشاد مانجی صاحبہ خود کو مسلمان کہتی ہیں لیکن قرآن کو حرف بہ حرف ماننا اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے اور جو کوئی قرآن پر من عن ایمان نہیں رکھتا وہ مسلمان نہیں ہوسکتا۔ ہماری اللہ سے دعا ہے کہ ان کو ہدایت دے اور قرآن کو ٹھیک سے سمجھنے کی توفیق عطا کرے۔

عطا حسین جعفری، دوبئی: میرے خیال سے مانجی صاحبہ نے مسلمانوں کے مسئلے کو اسلام کا مسئلہ سمجھ کر غلطی کی ہے۔ جہاں تک قرآن کے پرانے ہونے کی بات ہے تو جب آج تک نیوٹن کا کشِش ثقل کا قانون مفید ہے تو قرآن جیسی مقدس کتاب کیسے پرانی ہوسکتی ہے؟

ثقلین نقوی، ٹورانٹو: وہ غلط اس لئے ہیں کہ انہوں نے اپنے خیالات کو اس اسلام کے تناظر میں پیش کیا ہے جس کی آج مسلمانوں کی اکثریت پیروی کرتی ہے جیسے وہابی، سعودی، وغیرہ۔

امام ہمدانی، امریکہ: مانجی سے کیا امید کریں؟ کہ وہ اقرار کریں کہ وہ اسلام میں گِلٹی ہیں؟ ہر ایسا شخص یہ کہتا ہے کہ اس کے ساتھ کوئی کمی نہیں۔

خالد محمود بھٹی، ملتان: میں آپ سے صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا آپ نے عربی سیکھ لیا ہے، تنقید کرنے سے پہلے؟

ملک نثار احمد، امریکہ: وہ خواب دیکھ رہی ہیں۔ وہ جو کچھ لکھ رہی ہیں وہ حقیقت نہیں ہے۔

شاہدہ خان، لندن: میں ایک عام مسلم ہوں لیکن اسلام کی چند باتوں سے مجھے کبھی بھی اتفاق نہیں رہا۔ مثال کے طور پر ایک مرد کا ایک سے زیادہ بیویاں رکھنا۔ یہ عورت کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے اور اسلامی ملکوں میں دوسری شادی کی ہرگز اجازت نہیں ہونی چاہئے۔

فراز علی، ابوظہبی: خاتون اور ہمارے پاکستانی مولویوں فرق نہیں۔ دونوں کو اسلام سے کھیلنے کی عادت ہے اور نیوز میں آنا اور سستی شہر حاصل کرنا اچھا لگتا ہے۔

امان اللہ مری، بینگکاک: میرے خیال میں وہ اب مغرب کی ہیرو بن جائیں گی۔ یہ کہنا کہ ہر تخلیق اللہ کی ہے صحیح ہے لیکن اس کا مطلب نہیں ہے کہ اسے مان لیا جائے۔

راشدہ چودھری، امریکہ: آپ نے یہ نہیں لکھا ہے کہ مانجی کا کس فرقے سے تعلق ہے۔

احمد خان: میرے خیال میں مسلم طلباء کو قرآن کی پوری تعلیم ترجمے کے ساتھ بارہویں کلاس تک مکمل کرلینی چاہئے۔

سید محمد عبداللہ، بہاول پور: میں اس بات پر کوئی بحث نہیں کرنا چاہتا کہ محترمہ کیا کہہ رہی ہیں۔

ڈاکٹر جمیل چودھری، لندن: قرآن تو حد نظر تک پھیلا ہوا علم کا ایک سمندر ہے۔ جس کی ہر تعلیم کو صرف اسی صورت میں سمجھنا ممکن ہے اگر انسان کے پاس سائنس سے لیکر اسلام اور دیگر تمام نولیج بھی ہو۔ ورنہ یہ مولوی حضرات سے ہائجیک ہوجاتا ہے۔ ارشاد کی چند باتوں سے مجھے اتفاق ہے مگر کیا ان کے پاس قرآن کو سمجھنے کے لئے تمام نولیج موجود ہے؟

خالد عربی، گجرات، پاکستان: مانجی کو حق ہے کہ وہ مسلمانوں اور ان کے عقائد پر تنقید کریں، لیکن اس کے لئے انہیں تیار بھی رہنا چاہئے۔۔۔۔

نامعلوم: قرآن میں کوئی غلطی نہیں ہے یہ انسان کی آنکھوں کی غلطی ہے۔ اسی فیصدی قرآن پہلے سے ہی صحیح ثابت ہوگیا ہے۔ باقی جو کچھ ہے وہ مانجی کی ناسمجھی کی وجہ سے ہے۔ میں انہیں کہنا چاہوں گا کہ وہ کھلے دل سے قرآن پڑھیں۔۔۔۔

محمد احمد خان، کینیڈا: انہیں اپنے مذہب کے بارے میں کچھ نہیں معلوم ہے۔ وہ ایسی بات کیسے کہہ سکتی ہیں؟

یاسر حمید، ٹورانٹو: مسلم کی تشریح یہ ہے کہ وہ قرآن میں یقین کرے۔ مانجی خود کہہ رہی ہیں کہ وہ قرآن کی اصلیت میں یقین نہیں کرتی۔ لہذا وہ غیرمسلم ہیں۔ مینسٹریم مسلمان ان کے خیالات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ وہ شہرت کی متلاشی ہیں۔

عمران لکھیروا، شیکاگو: آزاد کے نام پر اسلام کو بدنام کرنے پر شرم آنی چاہئے۔ ہم جنس پرستی کے بارے میں بھی وہ غلط ہیں اور انہوں نے قرآن نہیں پڑھا ہے۔ اس طرح کے دانشور کتاب کی دکانوں سے قرآن نہیں، دوسری کتابیں پڑھتے ہیں۔ مانجی کو ان اسکالروں کی تفاسیر پڑھنی چاہئے جنہوں نے قرآن کی تفسیر میں پوری زندگی لگادی۔

ایم اکرم، امریکہ: مصنفہ کے لئے ایک مشورہ: وہ کتاب کا نام بدل دیں جوکہ ہے ’دی ٹربل وِتھ اسلام‘، کیونکہ مسئلہ اسلام کے ساتھ نہیں ہے، مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ انہوں نے اسلام کو غلط سمجھا ہے۔

تنویر خان، کینیڈا: میں مصنفہ کے موقف سے اتفاق کرتا ہوں۔ اسلام کو قدامت پرستوں نے ہائجیک کرلیا ہے اور ہم نے کوئی ترقی نہیں کی ہے۔

اکرم عالم، جرمنی: بعض مسلم مصنف اسلام پر تنقید صرف اس لئے کررہے ہیں کیونکہ اس سے ان کو مغرب میں شہرت حاصل ہوجاتی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی کے لکھنے، پڑھنے یا بولنے کے خلاف فتویٰ جاری کیا جائے۔

محمد ابوبکر، امریکہ: واقعی! اللہ جسے چاہے ہدایت دے اور جسے چاہے گمراہ کردے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ ان خاتون کو ہدایت دے۔ ان کے خیالات اتنے پختہ نہیں کہ بی بی سی جیسا ادارہ ان کی گفتگو شائع کرے۔ اسلام کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں ہر دور میں حادثات اور شبہات رہے ہیں لیکن سراسر قرآن حکیم کو ہی مبہم اور ناقابل فہم کہہ دنیا سراسر جہالت اور کم عقلی ہے۔

احمد: میں اس بات سے متفق نہیں کہ لوگوں کے اعمال کی وجہ سے مذہب کو برا بھلا کہا جائے۔ مسئلہ اسلام کے ساتھ نہیں، مانجی جیسے لوگوں کے ساتھ ہے جو اسلام کو سمجھ ہی نہیں پائے۔ میں جاہل مولویوں اور مانجی میں کوئی فرق نہیں دیکھ سکتا۔

نسیم وحید بھٹی، ملتان: میرے خیال سے تو ارشاد مانجی کو سستی شہرت چاہئے۔ اس لئے تو غیرمسلم اتحاد کو خوش کررہی ہیں، قرآن پر باتیں کرکے۔ اللہ ان کو ہدایت دے۔ آمین!



تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد