اپنی پسند کی آزادی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
(عائشہ جاوید اکرم کی عمر تئیس سال ہے۔ وہ انگریزی روزنامے ڈیلی ٹائمز کی میگزین کی مدیر ہیں۔ صحافی کی حیثیت سے وہ فیشن، معاشرہ اور حقوق نسواں جیسے موضوعات پر لکھتی رہی ہیں۔ اس وقت وہ پاکستان کی پچاس خواتین کی زندگی پر مبنی ایک کتاب لکھ رہی ہیں۔) ’میں ابھی جیٹ لیگ سے ابھر نہیں پائی تھی، ابھی لندن سے آئی ہی تھی، میری ماں نے جلدی جگا دیا۔ میرے لئے فوری طور پر بال سنوارنا ضروری ہوگیا۔ چار گھنٹے بعد مجھے معلوم ہوا کہ یہ اتنا ضروری کیوں تھا۔ ایک لڑکا مجھے دیکھنے آیا تھا۔ اس سے ملاقات کے بعد میرے والد نے کہا: ’ہم تمہیں مجبور نہیں کریں گے۔‘ میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ میں نے اپنے والد سے کہا: ’لیکن ابھی تو آپ نے مجبور کیا۔‘ یہ اکثر ہی ہوتا ہے، تمام گھروں میں۔ میری دوستوں کی زندگی میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔ مجھے بھی اس سے گزرنا پڑا۔ میری بہنوں کی زندگی میں بھی یہ مواقع آئے۔ لیکن کچھ لڑکیوں کی زندگی میں ایسے مواقع بھی نہیں ملتے۔ میری نوکرانی کے گھر اسے نکاح سے قبل لڑکے کا چہرہ بھی دیکھنے کا موقع نہیں ملے گا۔ لیکن میں ہمیشہ یہ کہتی ہوں کہ اگر ہمارے گھروں میں لڑکے سے ملنے کے مواقع ملتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اس کی اجازت دیں۔ میری ماں کہے گی: ’تمہیں کسی کا لحاظ نہیں۔‘ میری دادی میری ماں سے کہے گی: ’یہ تمہاری غلطی ہے کہ تم نے اسے کام کرنے دیا۔‘ ہاں، اس بات پر یقین کیا جاتا ہے کہ اگر کوئی عورت زبان کھولتی ہے جیسا میں اکثر کرتی ہوں، اور اگر وہ صحافی بھی ہے، تو اس کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں۔ مثال کے طور پر میری دادی کہے گی: ’تم خود ہی اس کی ذمہ دار ہو۔‘ کبھی کبھی ایسا وقت بھی آتا ہے جب میں یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتی ہوں کہ اس ملک میں صحافت کی برائی کی کوئی وجہ تو ہوگی۔ صحافت میں عورتیں کم ہی ہیں، مجھے کبھی کبھی اس رویے کا بھی شکار ہونا پڑتا ہے: ’تم صحافی ہو اس لئے تم ایسی ہی ہوگی۔‘ اس کا مطلب ہوتا ہے: لوگوں کی نظریں، نامناسب فون، طنز، وغیرہ۔ آپ پوچھ سکتے ہیں کہ میں یہ سب کیوں برداشت کرتی ہوں؟ یہ سب آسان اس طرح ہے: اسے نظر انداز کردیں اور اپنا کام کرتی رہیں، یہی میرا رویہ بھی ہے۔ اس سے مسئلے کا حل ہوتا ہے؟ کبھی کبھی۔ پھر میرے پاس کیا راستے ہیں؟ زبان کھولنے سے مزید غیرضروری توجہ کا منظر بن جاتی ہوں۔ کیا یہ بزدلوں کا طریقہ ہے؟ ہوسکتا ہے۔ لیکن میں کسی کو نہیں جانتی جس اس کے برعکس چلتا ہو۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||