جماعت احمدیہ کا اردو پریس پر تعصب کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جماعت احمدیہ نے کہا ہے کہ ایک سال کےدوران صرف لاہور کے اخبارات میں ان کے خلاف بطور پراپیگنڈہ دوہزار اکیس خبریں شائع کی گئیں اور مختلف رسائل میں ان کے خلاف جو مضامین شائع کیے گئے انہیں ایک جگہ جمع کیا جاۓ تو وہ آٹھ سو صفحات کی ایک کتاب کے برابر ہو جاتے ہیں۔ یہ دعویٰ جماعت احمدیہ کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں کیا گیا۔ جماعت احمدیہ کے ترجمان ملک خالد مسعود نے کہا ہے کہ لاہور کے اخبارات میں شائع ہونے والا تمام مواد ان کے بقول’ مولویوں کے نفرت انگیز اور متعصبانہ بیانات پر مبنی خبروں پر مشتمل ہے‘۔ رپورٹ میں پیش کردہ اعداد و شمار میں دعوی کیا گیا ہے کہ ’جماعت احمدیہ کے خلاف سب سے زیادہ خبریں روزنامہ نواۓ وقت میں شائع کی گئیں اور سال دو ہزار چار میں اس اخبار میں شائع ہونے والی جماعت احمدی مخالف خبروں کی تعداد چار سو سات رہی ، دوسرے نمبر پر تین سو بیالیس مخالفانہ خبروں کے ساتھ روزنامہ پاکستان رہا جبکہ تیسرے نمبر پر روزنامہ جنگ ہے جس میں دو سو اکیس خبریں شائع ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق روزنامہ خبریں میں ایک سو نوے ، دن میں ایک سو اٹھانوے ، آواز میں ایک سو ساٹھ ،ایکسپریس میں ایک سو اٹھانوے،اور دیگر متفرق اخبارات میں تین سو پانچ خبریں شائع ہوئیں۔ رپورٹ میں اخبارات کے مالکان یا مدیران اعلی کے نام بھی دیئے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ’ اخبارات میں شائع ہونے والی دوہزار اکیس خبروں کو ایک جگہ اکٹھا کر دیا جاۓ تو تو یہ کوئی آٹھ ہزار مربع جگہ بنتی ہے اور اس کے مقابلے میں جماعت احمدیہ کی طرف سے جو وضاحتیں شائع کی گئیں ان کی تعداد صرف سولہ تھی اور وہ سال بھر میں صرف چالیس مربع انچ جگہ ہی حاصل کر سکیں۔‘ جماعت احمدیہ کے پریس سیکرٹری راشد جاوید نے الزام عائد کیا ہے کہ ’پریس میں بلا تحقیق حکومتی عہدیداروں پر قادیانی ہونے کا الزام عائد کردیا جاتا ہے جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ انہیں بلیک میل کرکے احمدیوں کے خلاف اقدامات پر مجبور کیا جاسکے‘ ۔ پاکستان میں اخباری مالکان کی تنظیم آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے صدر عارف نظامی نے کہا کہ’ اے پی این ایس کا ضابطہ اخلاق موجود ہے لیکن اخبارات آزاد ہیں‘ انہو ں نے کہا کہ’ ان کی تنظیم اخبارات کی انفرادی پالیسی طے نہیں کرتی اس لیے اس رپورٹ کے میرٹ ڈی میرٹس میں جاۓ بغیر وہ یہی کہ سکتے ہیں کہ جب کبھی کوئی بیان جاری ہوتا ہے تو اخبارات اسے شائع کر دیتے ہیں۔‘ جماعت احمدیہ کی جاری کردہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’سال دو ہزار چار میں پاکستان میں احمدیوں کے بنیادی انسانی اور مذہب کے نام پر جماعت احمدیہ کے کارکنوں پر اکیاون مقدمات قائم کیے گئے‘۔ جماعت احمدیہ کا کہنا ہے کہ’ اس سال حکومت نے روشن خیال اور جدت پسند پاکستان کا نعرہ تو بلند کیا تھا لیکن ان کے کارکنوں کے انسانی اور مذہبی حقوق ماضی کی طرح ہی پامال کیے جاتے رہے۔‘ پاکستان میں سن انیس سو چوہتر میں قومی اسمبلی نے ایک آئینی ترمیم کے ذریعے احمدیہ فرقے کے پیروکاروں کو متفقہ طور پر دائرہ اسلام سے خارج قرار دیدیا تھا جس کے بعد سے اس فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد سماجی سطح پر اور سرکاری ملازمتوں کے حوالے بدسلوکی کی شکائت کرتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||