جیل میں ہلاکت: قانون کا راج یا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
توہین رسالت کا ملزم سیمویل مسیح جسے پچیس مئی کو جیل کے اندر ایک پولیس کانسٹیبل نے حملہ کرکے زخمی کردیا تھا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جمعہ کے روز لاہور کے جنرل ہسپتال میں چل بسا۔ اس سے پہلے بھی کئی ایسے واقعات ہوچکے ہیں جن میں توہین رسالت اور توہین اسلام کے ملزموں کو جیل میں حملہ کرکے مار دیا گیا۔ نبوت کا دعویٰ کرنے کے الزام میں زیر حراست ایک ملزم یوسف علی کو بھی لاہور کی ایک جیل میں قتل کردیا گیا تھا۔ آپ کے خیال میں پاکستان میں جیلوں کی کیا حالت ہے؟ جیل میں پولیس کے ہاتھوں کیا ہلاکتیں عام ہیں؟ جیلوں میں قانون کا راج ہے یا پولیس کا؟ قانون اور قیدیوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں صائمہ خان، کراچی: دراصل ارباب اقتدار نے پولیس کو اپنے تمام ناجائز مقاصد کے لئے استعمال کیا ہے۔ یہ کوئی غیر معمولی چیز نہیں ہے۔ اس ملک میں جنگل کا قانون چلتا ہے۔ مومن ملک، راولپنڈی: اگر کوئی توہین رسالت کا مرتکب ہوتا ہے تو اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔ لیکن اگر توہین رسالت کے نام پر جھوٹے مقدمے بنائے جاتے ہیں تو یہ بہت شرم کی بات ہے۔ ظفر حسین، فیصل آباد: توہین رسالت کی سزا موت ہے لیکن توہین رسالت کے ارتکاب کا فیصلہ عدالت کو کرنا چاہیے۔
عثمان خالد، لاہور: پاکستان میں پولیس اور آرمی ختم ہو جائیں تو پاکستان ایک امیر ملک بن جائے گا اور اس ملک میں کوئی جرم نہیں ہو گا۔ سارے جرم پولیس والے خود کراتے ہیں۔ طاہر شاہ، ژوب، پاکستان: قیدیوں کا قتل اس وقت ہوتا ہے جب پیسوں کے لئے ان پر تشدد کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لئے انہیں ہیروئن وارڈ میں رکھ کر اذیتیں دینے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ یہ اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک ایک انصاف پسند معاشرہ وجود میں نہیں آجاتا۔ ٹونی سید، برطانیہ: یہ قانون بدلنا چاہیے۔ لیکن مشرف کے لئے یہ قانون بدلنا بہت مشکل ہے۔ اس کے لئے رویے بدلنے کی ضرورت ہے جو کچھ نسلوں کی مسلسل تعلیم کے بعد ہی ممکن ہے۔ امجد حلیم، برطانیہ: میرے خیال ہے کہ اس ادارے کے بغیر پاکستان اور پاکستان کے عوام زیادہ محفوظ ہوں گے۔ تنویر جوزف، کینیڈا: یہ ایک سنگین جرم ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اقوام کی صف میں پاکستان کہاں کھڑا ہے۔سیکشن دوسو پچانوے اے بی اور سی کو اب منسوخ کر دینا چاہیے۔ احمد اقبال، اٹلی: اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی پولیسں ماورائے عدالت قتل کرنے کے لئے مشہور ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی کو کیا حق پہنچتا ہےکہ وہ کسی کی دلآزاری کرے۔
عمران سید، کینیڈا: جہاں تک اس قانون کا تعلق ہے تو یہ اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ ہمارے پیارے نبی ساری انسانیت کے رحمت بنا کر بھیجے گئے تھے۔ ان کے نام پر کسی انسان کے قتل کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ظہور خان، دبئی: ایسا صرف انصاف میں تاخیر کی وجہ سے ہوتا ہے۔ پاکستان چونکہ اسلامی جمہوریہ ہے اس لئے یہاں پر اس جرم کا فیصلہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہونا چاہیے۔ جاوید، جاپان: پاکستان کا یہ واحد ادارہ ہے جو پاکستان کی تاریخ میں دیوالیہ نہیں ہوا۔ یہ لوگ دن بہ دن ترقی کرتے رہے ہیں، پاکستان کو القاعدہ سے زیادہ ایسے وردی والوں سے خطرہ ہے۔ عمر فاروق، برطانیہ: پاکستان پولیس کو یہ اختیارات انیسویں صدی کے سامراجی قانون کے تحت حاصل ہیں۔ وہ قانون جنگ آزادی لڑنے والوں کو دبانے کے لئے بنایا گیا تھا۔ بدقسمتی سے آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی ہمارے ملک وہی قانون رائج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں ماورائے عدالت قتل، پولیس مقابلے اور غیر قانونی حراست عام ہے۔ جب کسی پولیس آفیسر کو پولیسں کی زیادتی کی بناء عدالت میں پیش ہونا پڑتا ہے تو وہ باآسانی عدالت کو بھی چکمہ دے دیتا ہے۔ سعید خٹک، نوشہرہ: اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی جیلوں کے حالات ناگفتہ بہ اور ناقص ہیں۔ پولیس والے نہ صرف جیل کے اندر بلکہ باہر بھی لوگوں کو مارتے ہیں۔ اسلئے اگر آپ اپنی عزت بچانا چاہتے ہیں تو جہاں پولیس ہو، اس راستے پر جانے کی کوشش بھی نہ کریں۔
شاہدہ اکرم، ابوظہبی: میرے خیال میں جیلوں کے حالات باہر کی دنیا سے بھی زیادہ خراب ہیں۔ جیلوں میں نہ قانون کا راج ہے اور نہ ہی پولیسں کا بلکہ وہاں پیسے کا راج ہے۔ بڑے سے بڑا جرم کر کے بھی ان رنگین نوٹوں کے ذریعے جیل میں سب سہولتیں حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اور ایک بےگناہ کو اسی پیسے کی بدولت گناہگار ثابت کیا جا سکتا ہے۔ نذیر شیخ، حیدرآباد: پورے ملک میں پولیس راج ہے۔ قانون تو صرف غریب لوگوں کے لئے ہے۔ آجکل پولیس کو دیکھ کر شریف آدمی سائیڈ کر جاتا ہے۔ محمد عمر چیمہ، فرانس: اس واقعہ سے مجھے عراقی جیلوں میں قیدیوں سے بد سلوکی یاد آ گئی۔ وہاں تو دوسرے ممالک کے لوگوں کے ساتھ بدسلوکی کی گئی تھی لیکن ہماری پولیس تو اپنے ہی قیدیوں سے برا سلوک کر رہی ہے۔ دوسرے یہ کہ توہین رسالت کا قانون منسوخ کر دینا چاہیے۔ امین علی، کراچی: پولیس پاکستان کے مسئلوں میں سے ایک مسئلہ ہے۔ راہ چلتے کو روکنا اور لوٹنا، جیل میں قیدیوں پر تشدد کرنا اور جھوٹے پولیس مقابلے کروانا پولیس کا کام ہے۔ ان کاموں پر پاکستان پولیسں کو نوبل انعام ملنا چاہیے۔ انور علی، کینیڈا: یہ اچھی بات نہیں ہے۔ پاکستان میں قانون صرف غریب اور بے بس لوگوں کے لئے ہے۔ طاقتور قانون کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
اعجاز احمد، کینیڈا: یہ بات نہ تو فرقہ بندی سے تعلق رکھتی ہے اور نہ ہی اس کا تعلق شہادت پسندی سے ہے۔ مجھے تو یہ ایک ذہنی مرض معلوم ہوتا ہے۔ مذہب اور قانون کسی کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ ندیم ملک، کینیڈا: میرے خیال میں لوگوں کو شعور دینے کی ضرورت ہے۔ یہ مذہب کے نام پر ایک اور قتل ہے۔ فیصل چانڈیو، حیدرآباد: ظلم تو ظلم ہے، جیل میں ہو یا جیل سے باہر۔ پر ہم کسی ایک فرد کے اعمال کو اسلام یا کسی بھی مذہب سے ریلیٹ نہیں کرسکتے۔ اور یہ سب ساری دنیا میں ہورہا ہے۔ شوکت حسین، شارجہ: میرے خیال میں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ مجرم کو قانون کے تحت ہی سزا دینی چاہئے۔ لیکن موجودہ حکومت سے یہ توقع رکھنا بھی نادانی ہے۔ محمد یوسف، لڑکانہ: ظاہر ہے جو آدمی توہین رسالت کرسکتا ہے اس نے قانون کی بھی توہین کی ہوگی اور میرے خیال میں اس بات کو کسی بھی ملک کا سپاہی برداشت نہیں کرسکتا۔
ایم اکرم، بورے والا: یہ پولیس کی وجہ سے جیل میں خون ہوا ہے۔ اس طرح کے متعدد واقعات ہورہے ہیں۔ ایلیا میسی، جنوبی کوریا: قانون ہوتا ہے انسانوں کی دنیا میں۔ جنگل میں نہ تو کوئی قانون سمجھتا ہے، نہ کوئی جانتا ہے۔ پاکستان کا نام پاکستان نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس کا معنی ہے ’ارضِ پاک‘ ہے لیکن وہاں کوئی قانون نہیں۔۔۔ نومان حسین، لاہور: جیل میں تشدد کرنا صحیح نہیں ہے مگر گستاخئ رسول کرنے والوں کو سزا ملنی چاہیے۔ شاہ نواز، کینیڈا: ایسا ہر جگہ ہورہا ہے۔ پولیس اور آرمی اپنی قید میں لوگوں کو ہلاک کردیتے ہیں کوئی آواز نہیں اٹھاسکتا۔ سید شاہ، نیو یارک: میں جیلوں میں تشدد کے خلاف ہوں، ہمارے پیغمبر کے خلاف تشدد کیا گیا کیا اسی طرح کا تشدد ہم اپنے بچوں کو سکھارہے ہیں؟ ہمارے پیغمر پر کیچڑ پھینکا گیا اور انہوں نے معاف کردیا۔ اور آج ہم ان کے نام پر؟ راحت ملک، راولپنڈی: جو ہلاکتیں جیل کے باہر پولیس کے ہاتھوں ہوتی ہیں کیا وہ بھی کبھی پریس کی نظر میں آئی ہیں؟ نہ تو یہ قانون کا رج ہے نہ پولیس، بلکہ جنگل کا۔ رومیل، انگلینڈ: جہاں تک اس بات کا تعلق ہے تو یہ فرقہ پسندی لگتی ہے۔ لیکن اس کو پولیس کا راج بھی کہا جاسکتا ہے۔ کیونکہ پولیس کے اعلیٰ افسران بھی اس بات میں شامل ہوسکتے ہیں، مگر اب وہی سب پولیس افسران اس بات کو کبھی تسلیم نہیں کرینگے۔ اس قانون کو بھی بدل دینا چاہئے۔
نفیس نصیر، امریکہ: یہ کافی تکلیف دہ ہے۔ میرا ایک سوال ہے: کیا یہ اسلام کی تعلیمات ہیں یا یہ لوگ اسلام کے نام پر ظلم کررہے ہیں؟ اسلام نے کسی طرح کی سزا یا توہین کی بات نہیں کی ہے۔ یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ اس کے ذمہ دار کون ہیں۔ یا کوئی انتہا پسند؟ ملک عدیل احمد، جدہ: اللہ نہ کرے کہ کسی کو پاکستانی جیلیں دیکھنے کا اتفاق ہو۔ مگر جیسا ان کے بارے میں سن رکھا ہے تو یہی کہ سکتا ہوں کہ صرف جیل ہی نہیں پولیس اسٹیشنوں میں بھی پولیس کا راج ہے، قانون صرف غریبوں کے لئے ہے۔میں نے خود پولیس کو ایک امیر لڑکے کا کتا ڈھونڈتے دیکھا ہے مگر میں جب پولیس کے پاس اپنی سائکل کی رپورٹ کرنے گیا تو کسی نے دھیان نہیں دیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||