بی بی سی اردو کی نشریات بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکام نے تین اداروں کو بی بی سی اردو کی نشریات چلانے سے روک دیا ہے۔ ان میں سے دو ٹی وی چینل ہیں جو بی بی سی اردو سے خبروں کے مختصر بلیٹن نشر کر رہے تھے جبکہ ایک ایف ایم ریڈیو سٹیشن ہے (مست 103) جو زلزلے پر دن میں دو مرتبہ خصوصی پروگرام نشر کر رہا تھا۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ نشرِ مکرر کرنے والے اداروں نے ذرائع ابلاغ کے ان ضوابط کی خلاف ورزی کی جس کے تحت غیر ملکی نشریاتی اداروں کا مواد دوبارہ نشر نہیں کیا جا سکتا۔
پولیس اور پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی، پیمرا کے اہلکار ایف ایم مست کے کراچی میں واقع دفتر سے نشریاتی آلات بھی اٹھا کر لے گئے۔جب کہ مست کا کہنا ہے کہ اس نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ اس کے علاوہ حکام نے دو سیلائٹ ٹی وی چینلوں کو ٹیلی فون کر کے بی بی سی اردو کی نشریات کو نشر کرنے سے روک دیا۔ واضح رہے کہ ایسا اس دن کیا گیا ہے جب وائس آف امریکہ کو پاکستان میں نشریات شروع کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ حکام کے اس اقدام کے باوجود بی بی سی اردو کی نشریات میڈیم ویو اور شارٹ ویو پر معمول کے مطابق سنی جا سکیں گی۔ پاکستان کے وزیر برائے اطلاعات شیخ رشید نے حکومت کے اس اقدام پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ | اسی بارے میں پیمرا کو غور کرنے کی ہدایت14 April, 2005 | پاکستان ایف ایم 103 کا دفتر سربمہر 12 November, 2004 | پاکستان مست ’ٹیم‘ کا چودہ روز کا ریمانڈ10 November, 2004 | پاکستان پاکستان: ایف ایم ریڈیو کا جال21.07.2003 | صفحۂ اول پاکستان: میڈیا کنٹرول میں نرمی03.01.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||