BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 November, 2005, 01:07 GMT 06:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بی بی سی اردو کی نشریات بند
مست
حکام ریڈیو مست کے نشریاتی آلات بھی اٹھا کر لے گئے
پاکستانی حکام نے تین اداروں کو بی بی سی اردو کی نشریات چلانے سے روک دیا ہے۔

ان میں سے دو ٹی وی چینل ہیں جو بی بی سی اردو سے خبروں کے مختصر بلیٹن نشر کر رہے تھے جبکہ ایک ایف ایم ریڈیو سٹیشن ہے (مست 103) جو زلزلے پر دن میں دو مرتبہ خصوصی پروگرام نشر کر رہا تھا۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ نشرِ مکرر کرنے والے اداروں نے ذرائع ابلاغ کے ان ضوابط کی خلاف ورزی کی جس کے تحت غیر ملکی نشریاتی اداروں کا مواد دوبارہ نشر نہیں کیا جا سکتا۔

پیمرا کی جانب سےضبط شدہ سامان کی رسید

پولیس اور پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی، پیمرا کے اہلکار ایف ایم مست کے کراچی میں واقع دفتر سے نشریاتی آلات بھی اٹھا کر لے گئے۔جب کہ مست کا کہنا ہے کہ اس نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔

اس کے علاوہ حکام نے دو سیلائٹ ٹی وی چینلوں کو ٹیلی فون کر کے بی بی سی اردو کی نشریات کو نشر کرنے سے روک دیا۔ واضح رہے کہ ایسا اس دن کیا گیا ہے جب وائس آف امریکہ کو پاکستان میں نشریات شروع کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

حکام کے اس اقدام کے باوجود بی بی سی اردو کی نشریات میڈیم ویو اور شارٹ ویو پر معمول کے مطابق سنی جا سکیں گی۔ پاکستان کے وزیر برائے اطلاعات شیخ رشید نے حکومت کے اس اقدام پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

اسی بارے میں
ایف ایم 103 کا دفتر سربمہر
12 November, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد