BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پیمرا کو غور کرنے کی ہدایت

News image
لاہور ہائی کورٹ نے ذرائع ابلاغ کے انضباطی ادارے پیمرا کو بی بی سی اور ایف ایم ایک سو تین کے درمیان طے پانے والے ترمیم شدہ معاہدے پر غور کرنےکی ہدائت کی ہے ۔ تاہم عدالت نے کہا ہےکہ مقامی ریڈیو پر بی بی سی کا بلیٹن نشر کرنے پر تاحکم ثانی پابندی رہےگی۔

جسٹس زاہد حسین کی عدالت میں جمعرات کو ایف ایم ایک سو تین کی اس پٹیشن کی سماعت ہوئی۔ مست ایف ایم کے وکیل رضا کاظم نے بی بی سی اور مقامی نجی ریڈیو مست ایف ایم کے درمیان پانے والے ترمیم شدہ معاہدے کا حوالے دیا اور یہ دلیل پیش کی اس کی رو سے ایف ایم ایک سو تین کو خبروں کے متن سے قبل از وقت آگاہ ہونے کا اختیار مل گیا ہے اس لیے مقامی ریڈیو پر بی بی سی کے بلیٹن نشر کرنے کا سلسلہ بحال کر دینا چاہیے۔

ایف ایم کے وکیل نے کہا کہ نجی ریڈیو چینل اپنی نشریات کی مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک ایف ایم سے بی بی سی کے پانچ ہزار سے زائد بلیٹن نشر ہوچکے ہیں اور ان میں سے کسی ایک کے متن یا اس کے ادارتی معیار کے خلاف پیمرا کو ایک بھی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔

اس کے برعکس انضباطی ادارے کے وکلاء کا کہنا تھا کہ ایف ایم نے اپنا سات فی صد ’ایئر ٹائم‘ یا نشریاتی وقت بی بی سی کو فروخت کردیا ہے اور یہ ان کے بقول مسلمہ ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مست ایک سو تین نے بی بی سی کے بلیٹن نشر کرکے ان کے بقول قواعد و ضوابط کی سخت خلاف ورزی کی ہے جبکہ ان کی ذمہ داری قبول کرنے کی بات ثانوی حثیت رکھتی ہے۔

پیمرا کے وکیل کا کہنا تھا کہ ایف ایم ایک سو تین کی انتظامیہ نے انہیں بی بی سی کے ساتھ اپنے معاہدے کا مکمل مسودہ فراہم نہیں کیا۔

عدالت نے اس موقع پر کہا کہ اگر ایف ایم ایک سو تین نے کچھ معقول تجاویزدی ہیں تو پیمرا کو ان پر غور ضرور کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تجاویز معقول ہوں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ پیمرا انہیں مسترد کردے۔

جسٹس زاہد حسین نے کہا کہ اگر نجی ریڈیو ایف ایم ایک سو تین کوئی ذمہ داری قبول کر رہا ہے اور قواعد و ضوابط کی پابندی کرنے کی یقین دہانی کروا رہا ہے تو پیمرا کو اس پر غور کرنا چاہیے کیونکہ اگر وہ کسی مرحلے پر قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو اس کا لائسنس منسوخ کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے دوران سماعت ایک موقع پر یہ بھی کہا کہ پیمرا محض ایک ریگولیٹری ادارہ ہے اور اس کا کام صرف ریگولیٹ کرنا ہے اسے اس سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل ڈاکٹر دانشور ملک نے، جو کہ پیمرا کے وکیل بھی ہیں استدعا کی کہ ترمیم شدہ معاہدے پر غور کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

عدالت نے ہدایت کی کہ اس مقصد کے لیے پیمرا کا اجلاس جلد ازجلد بلایا جائے اور نئے معاہدے کے متن کی روشنی میں مست ایف ایم ایک سو تین کے نقطہ نظر کا جائزہ لیا جائے اور اس بارے میں پیمرا اپنا موقف واضح کرے بصورت دیگر اس معاملہ کا فیصلہ خود عدالت کرے گی۔

یاد رہے کہ انضباطی ادارے پیمرا کے اعتراضات کے بعد سے بی بی سی نے یکم اپریل ایف ایم کے لیے خبروں کے بلیٹن معطل کر رکھے ہیں۔

درخواست پر مزید کارروائی کے لیے پانچ مئی کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد