ایف ایم 103 کا دفتر سربمہر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور پولیس نے اس نجی ریڈیو سٹیشن کی نشریات بند کر دی ہیں جس کے دوکارکنوں کو اس ماہ کی نو تاریخ کو امن عامہ میں خلل ڈالنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ لاہور میں ایف ایم 103 کے سٹیشن مینیجر شفقت اللہ کے مطابق جمعہ کی شام چھ بجے کے قریب تریباً پچیس پولیس اہلکار سول لائن تھانے کے ایس ایچ او ارشد حیات کانجو کی سربراہی میں ریڈیو سٹیشن آئے۔ ’انہوں نے سٹاف کے ارکان کو ریڈیو سٹیشن کے باہر نکال دیا اور جب ان سے وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ انہیں حکم ملا ہے کہ آپ کی نشریات بند کرنا ہیں۔‘ سٹیشن مینیجر کے مطابق پولیس اہلکاروں نے ایف ایم 103 کے دو کمپیوٹر آپریٹروں اور ایک ٹیلی فون آپریٹر کو گرفتار کر لیا۔ پولیس اہلکاروں نے دفتر کو سربمہر کیا اور ایف ایم 103 کے دوکمپیوٹرز، مائیک اور کچھ اور سامان بھی اٹھا کر لے گئے۔ لاہور سے بی بی سی کے نامہ نگار شاہد ملک کے مطابق ایک سینیئر پولیس افسر نے جو اپنا نام نہیں بتانا چاہتے اس کارروائی کی تصدیق کی ہے۔ پنجاب حکومت کے ترجمان شعیب بن عزیر نے ایف ایم 103 کے خلاف پولیس کارروائی پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایف ایم ریڈیو کو لائسنس جاری کرنے اور انہیں منسوخ کرنے کا اختیار صرف وفاقی حکومت کو حاصل ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||