فرحت عباس اور آفاق شاہ گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب پولیس نے پاکستان کے ایک نجی ریڈیو سٹیشن سے وابستہ مقامی صحافی اور اردو کے معروف شاعر فرحت عباس شاہ کو ان کے ایک ساتھی کمپیئر آفاق شاہ سمیت گرفتار کر لیا ہے پولیس نے ان پرحکومت کے خلاف اشتعال پھیلانے کے الزامات کے تحت فوجداری مقدمہ درج کیا ہے۔ لاہور پولیس کے ایک سینیئر افسر نے بتایا کہ’ انہیں لاہور میں واقع امراض دل کے ایک ہسپتال ، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے متعلق ایک متنازعہ رپورٹ نشر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے کیونکہ بقول ان کے ریڈیو کی اس رپورٹ سے شر پھیل رہا تھا۔‘ ایس ایچ او تھانہ سول لائن انسپکٹر ارشد حیات کے استغاثہ پر درج ہونے والی ایف آئی آر کے مطابق انہوں نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ ایک چوالیس کی بھی خلاف ورزی کی ہے جس کے تحت مال روڈ پر پانچ یا پانچ سے زائد افراد کا ایک ساتھ اکٹھا ہونا منع ہے۔ ایف آئی آر میں ایک دوسری دفعہ سول ایم پی او بھی عائد کی گئی جس کے مطابق ان پر شر پھیلانے کا بھی الزام ہے۔ ایف آئی آر کے مندرجات کچھ اس طرح ہیں ’پانچ افراد کشمیر روڈ کی طرف سے مال روڈ پر الحمرا ہال کے گیٹ نمبر ایک کے سامنے پہنچے اور اونچی آواز میں حکومت وقت ڈاکٹروں اور سرکاری ہسپتالوں کے خلاف نعرے بازی شروع کردی وہ(ملزمان) کہہ رہے تھے کہ موجودہ حکومت اور سرکاری ہسپتال و ڈاکٹر عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہوگئے ہیں‘
اس طرح انسپکٹر کے بقول’ وہ عوام کو اشتعال دلا کر امن عامہ میں خلل ڈال رہے تھے‘۔ استغاثہ کے مطابق ’وہ حکومت وقت اور سرکاری ہسپتال اور ڈاکٹروں کی ناکامی کو اپنے ادارے (ریڈیو)ایف ایم ایک سو تین سے نشر کر رہے تھے اس طرح عوام الناس میں مزید اشتعال پھیلا رہے تھے‘۔ پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق ان افراد کو پولیس نے گرفتار کرنے کی کوشش کی دو افراد فرحت عباس شاہ اور سید آفاق شاہ پکڑے گئے اور باقی تین نامعلوم افراد فرار ہوگئے۔ ایف ایم ایک سو تین کے ڈائریکٹر اویس باجوہ کا کہنا ہے کہ’ پولیس نے اپنی رپورٹ میں غلط بیانی سے کام لیا ہے اور پروگرام منیجر سید آفاق کو ایجرٹن روڈ پر واقع ریڈیو سٹیشن کی عمارت سے گرفتار کیا گیا اور اس موقع پر ان سے نازیبا سلوک بھی کیا گیا بعد میں ان کی گرفتاری کا علم ہونے پر ریڈیو کے کرنٹ افیئرز اینڈ نیوز کے انچارج فرحت عباس شاہ ان کی بابت معلوم کرنے تھانہ سول لائن گئے تو انہیں بھی گرفتار کرلیا گیا‘۔ گرفتار ہونے والے سید فرحت عباس شاہ، نجی ریڈیو سٹیشن کے انچارج کرنٹ افیئرز ہونے کے علاوہ اردو کے شاعر بھی ہیں، شاعری سے متعلق ان کی باون کتب شائع ہوچکی ہیں ان کی ایک کتاب’ شام کے بعد‘ کے درجنوں ایڈیشن مارکیٹ میں آچکے ہیں۔
ان دونوں افراد کو تھانے کی حوالات میں نہیں رکھا گیا تھا رات بارہ بجے انہیں ایک نجی پک اپ میں تھانے لایا گیا تو فرحت عباس شاہ کو ہتھکڑی لگی تھی اور ان کے کپڑے مٹی سے اٹے ہوئے تھے۔ ان کے ایک دوست ان کی سفید کار چلا کر تھانے لائے اور ان کی گاڑی بھی تھانے کے احاطے میں کھڑی کردی گئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||