مست ’ٹیم‘ کا چودہ روز کا ریمانڈ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کی ایک عدالت نے مقامی ریڈیو چینل سے وابستہ معروف شاعر فرحت عباس شاہ اور ان کے ساتھی پروگرام منیجر آفاق شاہ کو چودہ روز کے لیے عدالتی تحویل میں دیدیا ہے۔ ان کی درخواست ضمانت کی کل جمعرات کو سماعت کے لیے فریقین کو نوٹس جاری کر دئیے گئے ہیں۔ نجی ریڈیو ایف ایم ایک سو تین پر لاہور میں واقع دل کے امراض کے ایک ہپستال ’پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی‘ کے بارے میں رپورٹ نشر ہوئی تھی جس پر حکومت کو اعتراض تھا۔ کل لاہور پولیس نے فرحت عباس شاہ اور ان کے ساتھی آفاق شاہ پر حکومت کے خلاف شر پھیلانے اور مال روڈ پر جلوس نکالنے کے الزامات کے تحت فوجداری مقدمہ درج کیا تھا انہیں حراست میں لے لیا تھا۔ آج صبح انہیں مقامی جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا تو پولیس نے ان کا سات روز کا جسمانی ریمانڈ طلب کیا اور موقف اختیار کیا کہ ان سے وہ سی ڈیز برآمد کرنی ہیں جن پر نشر شدہ رپورٹ کی نقل موجود ہے۔ ملزمان کے وکیل سید باقر علی نقوی نے کہا کہ ’ملزمان کوئی دہشت گرد یا خطرناک مجرم نہیں ہیں بلکہ پڑھے لکھے اور معاشرے میں معزز سمجھے جانے والے پیشے سے تعلق رکھتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی رپورٹ بددیانتی پر مبنی ہے اور اس میں ملزمان کی گرفتاری کے موقع کے حوالے سے تضاد پایا جاتا ہے۔ عدالت نے انہیں چودہ روز کے لیے اپنی تحویل میں جیل بھجوانے کا حکم دیا لیکن وقت زیادہ ہوجانے کے باعث پولیس نے انہیں کم از کم ایک روز کے لیے تھانہ سول لائن کی حوالات میں روک لیا ہے۔ گرفتار ہونے والے سید فرحت عباس شاہ، نجی ریڈیو سٹیشن کے انچارج کرنٹ افیئرز ہونے کے علاوہ اردو کے شاعر بھی ہیں۔ فرحت عباس شاہ ریڈیو چینل پر شہزادہ وریام بن کر ایک شو بھی کرتے ہیں جو عوام میں خاصا مقبول ہے۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’شہزادہ وریام حوالات کی ہوا کھا رہا ہے اور وہ جب رہا ہوکر آۓ گا تو اپنے دوستوں(سامعین ) کو پولیس کی مہمان نوازی کے قصے ضرور سناۓ گا‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||