47 ریڈیو سٹیشن قائم کیے جائیں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن‘ نے ملک بھر کی تمام آبادی کو ریڈیو سننے کی سہولت فراہم کرنے کی خاطر آئندہ تین برسوں میں سینتالیس ایف ایم ریڈیو سٹیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات اطلاعات و نشریات کی وزیر مملکت، انیسہ زیب طاہر خیلی کو جمعہ کے روز کارپوریشن کے ڈائریکٹر جنرل طارق امام نے ایک بریفنگ میں بتائی۔ حکام کے مطابق ساڑھے سینتالیس کروڑ روپوں کی لاگت کے اس منصوبے کے تحت آئندہ تین ماہ کے اندر چھ ایف ایم سٹیشن ، گوادر، مٹھی، بنوں، کوہاٹ، میانوالی اور سرگودھا میں قائم کردیے جائیں گے۔ اس موقع پر وزیر مملکت نے کہا کہ ریڈیو، ٹیلی ویژن سے زیادہ طاقتور میڈیا ہے کیونکہ ایک تو یہ بہت سستا ہے جبکہ گاڑی چلاتے ہوئے یا کوئی کام کاج کرتے ہوئے آسانی سے سنا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق ’ایف ایم ریڈیو‘ شروع ہونے سے صورتحال بہت زیادہ تبدیل ہوئی ہے اور اس سے سننے والوں کی خاصی تعداد پیدا کردی ہے۔ انسیہ زیب طاہرخیلی نے مزید کہا کہ ریڈیو عام آدمی کی پہنچ میں ہے اور اس سے ملک کی بہت بڑی آبادی کو سستی تفریح بھی ملے گی۔ انہوں نے حکام سے کہا کہ وہ ایف ایم ریڈیو پر خبروں کا سلسلہ بھی شروع کریں تاکہ حکومتی پالیسیوں کے بارے میں عوام کو وسیع پیمانے پر آگاہ کیا جاسکے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے کئی شہروں میں نجی کمپنیوں کو بھی حکومت نے ایف ایم ریڈیو سٹیشن قائم کرنے کے لائنسس جاری کر رکھے ہیں لیکن تاحال ان سے خبریں نشر نہیں کی جاتیں۔ ملک کے چار شہروں، فیصل آباد، لاہور، ملتان اور کراچی میں ایف ایم 103 سے بی بی سی روزانہ صبح چھ بجے سے رات بارہ بجے تک ہر گھنٹے پانچ منٹ کا بلیٹن نشر کرتا ہے جو حکومت نےاب بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||